National

سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے معاملہ میں سماعت ملتوی، سپریم کورٹ نے تین ہفتے بعد اگلی تاریخ مقرر کی

سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے معاملہ میں سماعت ملتوی، سپریم کورٹ نے تین ہفتے بعد اگلی تاریخ مقرر کی

نئی دہلی: اتر پردیش کے سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد کے سروے سے متعلق جاری قانونی تنازعہ میں پیر کے روز سپریم کورٹ میں ہونے والی اہم سماعت ملتوی ہو گئی۔ عدالت عظمیٰ نے معاملہ کی اگلی سماعت تین ہفتے بعد کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد اس مقدمہ کی آئندہ سماعت کی تاریخ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ یہ مقدمہ اس عرضی سے متعلق ہے جسے مسلم فریق کی جانب سے دائر کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں نچلی عدالت کی طرف سے شاہی جامع مسجد کے سروے کے لیے کورٹ کمشنر مقرر کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ نچلی عدالت نے اس سے پہلے مسجد کے بارے میں دعوؤں کی جانچ کے لیے کورٹ کمشنر کے ذریعہ سروے کرانے کی اجازت دی تھی۔ مسلم فریق کا مؤقف ہے کہ نچلی عدالت کو اس نوعیت کے سروے کا حکم دینے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ عرضی گزاروں کے مطابق مسجد سے متعلق تنازعہ میں کورٹ کمشنر کے ذریعہ سروے کرانے کا حکم دینا عدالت کے دائرہ اختیار اور قانونی طریقۂ کار سے باہر ہے، اس لیے اس حکم کو منسوخ کیا جانا چاہیے۔ مسلم فریق نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور نچلی عدالت کے حکم پر روک لگائی جائے۔ دوسری طرف ہندو فریق کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل وشنو شنکر جین نے پہلے کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ میں دلیل دی تھی کہ شاہی جامع مسجد پہلے ہی ایک محفوظ تاریخی یادگار کے طور پر درج ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں عبادت گاہوں سے متعلق قانون، یعنی پوجا استھان (خصوصی دفعات) قانون 1991 اس مقام پر لاگو نہیں ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ متنازعہ مقام پر مندر سے متعلق قدیم شواہد کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس لیے وہاں سروے کرانا ضروری ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ کورٹ کمشنر کے ذریعہ کرایا جانے والا سروے قانون کے دائرے میں ہے اور اس میں کسی طرح کی غیر قانونی بات نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگر کوئی مقام بھارتی آثار قدیمہ سروے کے تحت محفوظ یادگار ہو تو اس پر عبادت گاہوں سے متعلق قانون 1991 کی دفعات خود بخود نافذ نہیں ہوتیں۔ اسی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مسلم فریق نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ اب سب کی نظریں عدالت عظمیٰ میں ہونے والی اگلی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے سے متعلق اس تنازعہ کی آئندہ قانونی سمت کیا ہوگی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments