National

‘سڑک چھاپ غنڈے جیسی زبان، نمازیوں کو سنبھل کے سی او کی وارننگ پر کانگریس، ایم آئی ایم کا سخت ردعمل

‘سڑک چھاپ غنڈے جیسی زبان، نمازیوں کو سنبھل کے سی او کی وارننگ پر کانگریس، ایم آئی ایم کا سخت ردعمل

نئی دہلی :سنبھل کی انتظامیہ نے نماز جمعہ کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔ پی اے سی کی تین کمپنیاں اور 200 بھرتی ہونے والے کانسٹیبلوں کو دوپہر نماز کے وقت جامع مسجد میں تعینات کیا گیا تھا۔ پولیس نے سڑکوں پر نماز پڑھنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ سرکل آفیسر کلدیپ کمار نے امن کمیٹی کے اجلاس میں خبردار کیا تھا کہ بین الاقوامی مسائل پر احتجاج کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس نے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے یہ سخت موقف اپنایا اس کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ فرقہ وارانہ کشیدگی یا انتشار کو بروقت روکا جاسکے۔ سی او کے بیان پر کانگریس اور اویسی کی پارٹی کے لیڈروں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ واضح رہے کہ امن کمیٹی کے اجلاس میں سی او کلدیپ کمار نے کہا تھا کہ جو لوگ ایران اسرائیل جنگ کے بارے میں سب سے زیادہ فکر مند ہیں انہیں ہوائی جہاز میں سوار ہو کر ایران جانا چاہیے اور وہاں سے لڑنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ نے ہندوستان میں امن و امان کو متاثر کیا تو پولیس "سخت کارروائی” کرے گی۔ سی او نے نماز کے دوران سیاہ پٹیاں باندھنے یا کسی بھی ملک کے خلاف نعرے نہ لگانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ نماز صرف مسجد کے اندر ہو گی اور جو لوگ سڑک پر نکلیں گے انہیں جیل بھیج دیا جائے گا۔ آج تک کے مطابق سی او کے بیان نے سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے سوشل میڈیا پر سوال کیا کہ کیا وردی والے افسر کی ایسی زبان جمہوری ملک میں قابل قبول ہے؟ اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ یوپی پولیس افسر کو آئین کی تمہید یاد دلائیں۔ دریں اثنا، اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر شوکت علی نے اور بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ افسر کی زبان آئینی حلف کی عکاسی نہیں کرتی ہے، بلکہ وہ کسی مجرم یا سڑک چھاپ غنڈے کی طرح لگتی ہے۔ ایم ائی ایم یوپی کے صدر شوکت علی نے سی او کلدیپ کمار کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان کو دھمکی آمیز اور غیر آئینی قرار دیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ذمہ دارانہ عہدے پر رہتے ہوئے ایسی دھمکیاں دینا آئین کی بنیادی روح کی خلاف ورزی نہیں؟ شوکت علی نے کہا کہ اقلیتوں کو اتنا غیر محفوظ کیوں سمجھا جاتا ہے کہ انہیں کھلم کھلا دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس متنازعہ بیان پر سی او کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments