’اپنے بوتھ پر جیت کر دکھائیں‘، بلدیاتی انتخابات میں ممتا کو امیدوار بننے کا سکانتا کا چیلنج
بلدیاتی انتخابات پر سب کی نظریں ہیں۔ بی جے پی کے انتخابی نشان پر امیدوار بننے کے لیے درخواست دینے کا عمل جاری ہے۔ اسی دوران این سی پی آئی کے ساتھ اتحاد کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کولکاتا میں بلدیاتی انتخابات کے لیے بی جے پی کے انچارج سکانتا مجمدار نے کہا، ”بی جے پی تمام 209 نشستوں پر کمل کے نشان پر انتخاب لڑے گی۔“
صرف یہی نہیں، تمام نشستوں پر بی جے پی کے امیدوار کھڑے کرنے کی بات کرتے ہوئے سکانتا نے دعویٰ کیا، ”ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ پہلے اپنے بوتھ پر جیت کر دکھائیں۔“ ان کے بقول، ”پہلے اپنا گھر سنبھالیے، اس کے بعد بی جے پی کی طرف دیکھیے۔“
بی جے پی کے امیدواروں کے انتخاب کے معاملے پر اتحاد کی قیاس آرائیوں کے درمیان جمعہ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکانتا مجمدار نے کہا، ”ڈراپ باکس میں درخواست جمع کرانے والوں کے لیے پیر، یعنی 26 اکتوبر کی شام 5 بجے تک کا وقت ہے۔ اس مدت کے اندر درخواست دینے والوں میں سے پارٹی امیدواروں کا انتخاب کرے گی۔“
صرف یہی نہیں، سکانتا نے یہ بھی واضح کیا کہ امیدواروں کے انتخاب کے لیے کن شرائط کو مدنظر رکھا جائے گا۔ ان کے بقول، ”امیدواروں کے انتخاب میں بی جے پی کے کارکنوں اور پارٹی کے لیے کام کرنے والوں کو ترجیح دی جائے گی۔ سماج کی ممتاز شخصیات کو بھی اہمیت دی جائے گی۔ اسمبلی انتخابات سے پہلے، پارٹی کے مشکل وقت میں جو لوگ اس کے ساتھ کھڑے رہے تھے، انہیں امیدوار بنانے کے معاملے میں پارٹی اہمیت دے گی۔“بی جے پی امیدوار بننے کے خواہش مند افراد کی مقامی سطح پر شبیہ کی بھی جانچ کی جائے گی۔
تو کیا امیدواروں کی فہرست میں ترنمول کانگریس کا کوئی چہرہ بھی نظر آئے گا؟ اس سوال پر سکانتا نے کہا، ”سیاست کا مطلب امکانات ہیں۔ یہاں کوئی ایک متعین راستہ نہیں ہے۔“
بی جے پی کے اندر امیدواروں کی فہرست میں ’بیرونی عناصر‘ کی شمولیت کے معاملے پر جاری اختلافات کو مسترد کرتے ہوئے سکانتا نے دعویٰ کیا، ”امیدواروں کے انتخاب کے لیے سب کی رائے لی جائے گی۔ ضلع سے لے کر ریاستی سطح کے رہنماو¿ں، ارکانِ اسمبلی اور ارکانِ پارلیمنٹ کی رائے لینے کے بعد امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دی جائے گی۔“
’اپنے بوتھ پر جیت کر دکھائیں‘، بلدیاتی انتخابات میں ممتا کو امیدوار بننے کا سکانتا کا چیلنج...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments