شانتی پور میں بھڑ کے ڈنک سے بخار، چہرہ اور جسم سوجنے کے بعد طبیعت بگڑی! اسپتال میں موت
بھڑ کے ڈنک کے بعد ہی پورا جسم سوج گیا اور تیز بخار بھی چڑھ گیا! پورے جسم میں ناقابلِ برداشت درد ہونے لگا۔ اسپتال میں علاج کرانے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایک ہی دن کے اندر اس شخص کی موت ہوگئی۔ کیا واقعی بھڑ کے ڈنک سے ہی موت ہوئی؟ یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟ پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ متوفی کا نام سبھاش چندر بسواس ہے۔ یہ واقعہ ندیہ ضلع کے شانتی پور میں پیش آیا۔
متوفی کے اہل خانہ کے مطابق، سبھاش چندر بسواس کا گھر شانتی پور کی بیلگھریا نمبر 1 گرام پنچایت کے مہیشاڈانگا گاو¿ں میں ہے۔ وہ پیشے سے وین ڈرائیور تھے اور پھولیا بازار میں ٹرالی وین چلا کر روزی کماتے تھے۔ گزشتہ جمعہ کی صبح سویرے وہ کام پر گئے تھے۔ دوپہر تقریباً ایک سے ڈیڑھ بجے کے درمیان گھر واپس آئے۔ سبھاش بابو نے گھر والوں کو بتایا تھا کہ پھولیا بازار پاڑہ علاقے میں رفع حاجت کے لیے جاتے وقت انہیں بھڑ نے ڈنک مار دیا تھا۔
گھر واپس آنے کے کچھ ہی دیر بعد ان کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ پہلے ان کا چہرہ سوجنے لگا، پھر پورے جسم میں درد محسوس ہونے لگا۔ دوپہر کے بعد انہیں شدید بخار بھی چڑھ گیا۔ پہلے انہیں پھولیا بلاک پرائمری ہیلتھ سینٹر لے جایا گیا۔ وہاں رہنے کے دوران ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔ شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے انہیں راناگھاٹ سب ڈویڑنل اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ رات کے وقت علاج کے دوران اہل خانہ کو اطلاع ملی تھی کہ ان کی طبیعت میں کچھ بہتری آئی ہے۔ لیکن آج، ہفتے کی صبح ان کی موت ہوگئی۔واقعے کی اطلاع ملنے پر راناگھاٹ تھانے کی پولیس اسپتال پہنچی۔ موت کیسے ہوئی؟ کیا واقعی بھڑ کے ڈنک کی وجہ سے ان کی جان گئی؟ اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے راناگھاٹ پولیس مردہ خانے بھیج دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق، بھڑ کے ڈنک اور موت کے درمیان براہِ راست تعلق تھا یا نہیں، یہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا۔ سبھاش چندر بسواس کی موت سے ان کے اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔
شانتی پور میں بھڑ کے ڈنک سے بخار، چہرہ اور جسم سوجنے کے بعد طبیعت بگڑی! اسپتال میں موت...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments