National

شوہروں کی ادلا بدلی: مدھیہ پردیش کی دو بہنوں کے فیصلے نے سب کو چونکا دیا

شوہروں کی ادلا بدلی: مدھیہ پردیش کی دو بہنوں کے فیصلے نے سب کو چونکا دیا

گوالیار، مدھیہ پردیش سے ایک نہایت ہی عجیب و غریب اور حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں دو سگی بہنوں نے عدالت کے سامنے اپنے شوہروں کے تبادلے کی خواہش ظاہر کر کے سب کو ششدر کر دیا۔ یہ قانونی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب دتیا کے رہائشی گریجا شنکر نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی گوالیار بنچ میں ایک ‘حبس بے جا’ کی درخواست دائر کی۔ گریجا شنکر نے دعویٰ کیا کہ اس کی بیوی اور بیٹی کو مایارام نامی شخص نے اغوا کر کے قید کر رکھا ہے۔ عدالت کے حکم پر پولیس نے جب خاتون کو بازیاب کرا کے جج کے سامنے پیش کیا، تو کہانی نے بالکل مختلف رخ اختیار کر لیا۔ بڑی بہن نے عدالت میں صاف لفظوں میں کہا کہ اس کا اغوا نہیں ہوا، بلکہ وہ اپنی مرضی سے مایارام کے ساتھ رہ رہی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مایارام اس کا اپنا بہنوئی (چھوٹی بہن کا شوہر) ہے۔ خاتون نے مزید بتایا کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق کے لیے پہلے ہی درخواست دے چکی ہے۔ وہ اب اپنے بہنوئی کے ساتھ ہی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ بات صرف یہیں ختم نہیں ہوئی، جب چھوٹی بہن سے بات کی گئی تو اس نے بھی سب کو حیران کر دیا۔ اس نے کہا کہ اسے اپنے شوہر (مایارام) کے ساتھ نہیں رہنا، بلکہ وہ اپنی بڑی بہن کے شوہر (گریجا شنکر) کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔ یعنی دونوں بہنوں نے باہمی رضامندی سے ایک دوسرے کے شوہروں کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا۔ جسٹس کے سامنے جب یہ عجیب و غریب صورتحال آئی، تو عدالت نے درج ذیل نکات پر غور کیا: دونوں بہنیں بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اہل ہیں۔چونکہ بڑی بہن نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی مرضی سے گئی ہے، اس لیے اسے اغوا کا معاملہ نہیں مانا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے گریجا شنکر کی جانب سے دائر کی گئی اغوا کی درخواست کو خارج کر دیا اور واضح کیا کہ یہ دو بالغ افراد کا باہمی معاملہ ہے۔ اس خبر نے سوشل میڈیا اور قانونی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دونوں بہنوں کے بچے بھی ہیں، اور اس طرح کے ‘تبادلے’ نے خاندانی ڈھانچے اور بچوں کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گوالیار کی گلیوں سے لے کر عدالت کے راہداریوں تک، ہر کوئی اس ‘میاں بیوی کی ادلا بدلی’ والے واقعے پر حیرت کا اظہار کر رہا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments