پریاگ راج، 27 مارچ: الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ شادی شدہ مرد کا کسی بالغ خاتون کے ساتھ رضامندی سے لیو اِن ریلیشن شپ میں رہنا جرم نہیں ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں درخواست گزار جوڑے کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ اخلاقیات اور قانون کو الگ الگ رکھا جانا چاہیے اور کسی عمل کو صرف سماجی یا اخلاقی بنیاد پر جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے جمعہ کو ایک عرضی کی سماعت کے دوران سنایا۔ عدالت نے کہا کہ اگر دو بالغ افراد اپنی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو اسے غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی شادی شدہ مرد کا کسی بالغ خاتون کے ساتھ رہنا بذات خود جرم کے دائرے میں نہیں آتا۔ یہ معاملہ اتر پردیش کے ضلع شاہجہاں پور سے سامنے آیا تھا، جہاں نیترپال نامی ایک شادی شدہ شخص ایک بالغ خاتون انامیکا کے ساتھ لیو اِن ریلیشن شپ میں رہ رہا تھا۔ خاتون کے اہل خانہ نے اس رشتے کی مخالفت کی اور مبینہ طور پر جوڑے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ اس کے علاوہ اہل خانہ کی جانب سے اغوا کا مقدمہ بھی درج کرا دیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 87 کے تحت ایف آئی آر درج کی۔ اس صورتحال کے بعد جوڑے نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور اپنی جان کو خطرہ بتاتے ہوئے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست دی۔ عدالت نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں افراد بالغ ہیں اور اپنی مرضی سے ساتھ رہ رہے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ ہائی کورٹ نے شاہجہاں پور کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ہدایت دی کہ وہ جوڑے کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی غیر ضروری کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ جوڑے کی گرفتاری نہ کی جائے اور پولیس افسر خود اس معاملے کی نگرانی کریں۔ عدالت نے خاتون کے اہل خانہ کو بھی سختی سے متنبہ کیا کہ وہ جوڑے کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں، نہ ان کے گھر جائیں اور نہ ہی ان سے رابطہ کریں۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو بھی اس معاملے میں 8 اپریل تک جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ قانون اور اخلاقیات کو الگ رکھا جانا چاہیے۔ اگر کوئی عمل قانون کے تحت جرم نہیں ہے تو صرف سماجی دباؤ یا اخلاقی بنیاد پر عدالت فیصلہ نہیں بدل سکتی۔ عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ کسی شادی شدہ مرد کے بالغ خاتون کے ساتھ رضامندی سے لیو اِن ریلیشن شپ میں رہنے پر کوئی ایسا قانون موجود نہیں ہے جس کے تحت مقدمہ چلایا جا سکے۔ اس لیے پولیس کو چاہیے کہ وہ ایسے معاملات میں بالغ افراد کے بنیادی حقوق کا احترام کرے۔ قانونی ماہرین کے مطابق بھارت میں لیو اِن ریلیشن شپ کو عدالتیں پہلے بھی قانونی تحفظ دے چکی ہیں۔ سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں میں بالغ افراد کو اپنی مرضی سے رہنے کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اگرچہ لیو اِن ریلیشن شپ کو شادی کے برابر قانونی حیثیت حاصل نہیں، لیکن ایسے جوڑوں کو تحفظ اور آزادی کا حق ضرور حاصل ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو ایسے جوڑوں کے لیے بڑی راحت قرار دیا جا رہا ہے جو خاندانی مخالفت کا سامنا کرتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ رضامندی سے ساتھ رہنے والے بالغ افراد کو تحفظ فراہم کرے اور کسی بھی غیر ضروری دباؤ یا ہراسانی سے بچائے۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات