National

شادی کا گھر ماتم کدہ بن گیا! جہاں 10 لاکھ روپے کی خاطر محمد مصطفیٰ نے انسانیت کا جنازہ نکال دیا

شادی کا گھر ماتم کدہ بن گیا! جہاں 10 لاکھ روپے کی خاطر محمد مصطفیٰ نے انسانیت کا جنازہ نکال دیا

سنبھل، اتر پردیش اتر پردیش کے ضلع سنبھل سے ایک ایسی لرزہ خیز خبر سامنے آئی ہے جس نے انسانیت اور معاشرتی اقدار پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک غریب باپ کی بیٹی دہلیز پر بیٹھی بارات کا انتظار کرتی رہی، لیکن لالچی دولہا اور اس کے گھر والوں نے محض 10 لاکھ روپے کی اضافی رقم نہ ملنے پر بارات لانے سے صاف انکار کر دیا۔ یہ واقعہ تھانہ بنیا ڈھیر کے ایک گاؤں کا ہے، جہاں ایک مقامی شخص نے اپنی بیٹی کا رشتہ ضلع مراد آباد کے گاؤں محمد جما پور کے رہائشی محمد مصطفیٰ سے طے کیا تھا۔ شادی کی تاریخ 26 اپریل مقرر تھی، لیکن شادی سے چند روز قبل ہی دولہا کے گھر والوں نے 10 لاکھ روپے نقد کا مطالبہ کر دیا۔ لڑکی والوں نے شادی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں، وسیع پیمانے پر کھانے پینے کا انتظام کیا گیا تھا، لیکن بارات نہ آنے کی وجہ سے سب کچھ ضائع ہو گیا۔ متاثرہ خاندان کا دعویٰ ہے کہ منگنی کی رسم انتہائی دھوم دھام سے کی گئی تھی جس پر پہلے ہی 10 لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات آ چکے تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاندان کے افراد دھاڑیں مار کر رو رہے ہیں۔ یہ رونا کسی کی موت پر نہیں، بلکہ اس مردہ معاشرے اور انسانیت کے جنازے پر ہے جہاں بیٹیوں کی خوشیوں کو روپے پیسے کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ "اسلام میں نکاح ایک سادہ ترین عمل ہے جو تین گواہوں کی موجودگی میں چند منٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے اور اس پر کوئی بھاری خرچ نہیں آتا۔ لیکن آج کے دور میں مادہ پرستی نے لوگوں کے ضمیر کو اس حد تک جھنجھوڑ دیا ہے کہ وہ چند لاکھ روپوں کے لیے کسی کی زندگی اور عزت سے کھیلنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔” متاثرہ خاندان نے انصاف کی اپیل کی ہے اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے لالچی افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور کی بیٹی کے ساتھ ایسا مذاق نہ ہو۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments