جادو پور کیمپس میں ایس ایف آئی کا 'دیس پریم' پیغام، 'دیس دروہی' کے طعنے کا جواب میں ہتھیار عوامی نغمے
کارل مارکس کا قول، 'کشن جی ریڈ سالیوٹ'، 'فری فلسطین' ماضی کی بات ہو چکی ہے۔ ہزاروں تنازعات کے درمیان اپنی تصویر کو سنوارنے کے لیے اس بار جادھو پور یونیورسٹی کیمپس میں سی پی ایم کی طلبہ تنظیم نے حب الوطنی کی علامت پیش کی۔ ایس ایف آئی نے باقاعدہ پروگرام کے ذریعے کیمپس میں حب الوطنی کے گیت گائے۔ پیر کی شام جادھو پور یونیورسٹی کے گاندھی بھون میں تنظیم کی جادھو پور علاقائی کمیٹی کے زیر اہتمام ثقافتی پروگرام 'یہ دیس تمہارا میرا' کا انعقاد کیا گیا۔ ایک گھنٹے کے پروگرام کا ٹیگ لائن تھا 'خوابوں سے بنا وہ ملک، یادوں سے گھرا ہوا'۔
یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کی پیشکش میں حب الوطنی کے عوامی نغموں کا ایک سلسلہ گایا گیا۔ تنظیم کی طرف سے انجیل داس نے واضح کیا کہ باہر کے کوئی مہمان مقرر یا فنکار نہیں، بلکہ کیمپس کے طلبہ ہی اس دن کے پروگرام کا مرکز تھے۔ بائیں بازو کے حب الوطنی اور جادھو پور یونیورسٹی کی قوم پرست تحریک کی تاریخ کو یاد دلاتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سرزمین پر حب الوطنی کی بات کرنے کا حق انہیں ہے، آر ایس ایس کو نہیں۔ بعد میں اپنے پروگرام میں وزیر اعلیٰ شوبھیندر ادھیکاری کو مدعو کرتے ہوئے انجیل نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کیمپس میں اس طرح کے پروگرام میں آ کر خود دیکھ لیں کہ بائیں بازو کے طلبہ 'دیس دروہی' (غدار) ہیں یا نہیں۔
جادو پور کیمپس میں ایس ایف آئی کا 'دیس پریم' پیغام، 'دیس دروہی' کے طعنے کا جواب میں ہتھیار عوامی نغمے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments