Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

آلو کی پیداوار میں خود کفالت کی راہ پر بنگال، ریاست میں ہی بیج کی تحقیق ہوگی

Admin
By Admin
Sep 09, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

MAMATA BANERJEE KA BADA ELAAN, BJP KI TANA SHAHI NA RUKI TOH DELHI MEIN KARENGI DHARNA

آلو کی پیداوار میں خود کفالت کی راہ پر بنگال، ریاست میں ہی بیج کی تحقیق ہوگی
آلو کی پیداوار میں خود کفالت کی راہ پر بنگال، ریاست میں ہی بیج کی تحقیق ہوگی — September 09, 2026
آلو کی پیداوار میں خود کفالت کی راہ پر بنگال، ریاست میں ہی بیج کی تحقیق ہوگی
آلو کی پیداوار میں مزید ایک قدم آگے بڑھ کر خود کفیل ہونے کے مقصد سے مغربی بنگال میں بہتر اور بیماری سے پاک آلو کے بیج کی پیداوار کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو وسعت دینے کا اقدام کیا جا رہا ہے۔ ریاست کے کسانوں کو اعلیٰ معیار کا بیج آسانی سے پہنچانا اور ساتھ ہی آلو کی پیداواری صلاحیت اور کسانوں کی آمدنی بڑھانا اس اقدام کا بنیادی مقصد ہے۔ اس سلسلے میں ہماچل پردیش کے شملہ میں واقع آئی سی اے آر-سینٹرل پوٹیٹو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی پی آر آئی) کی تحقیقی اور تکنیکی مدد لی جائے گی۔ حال ہی میں مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان مغربی بنگال کے دورے پر آئے تھے۔ اس دوران ریاست میں آلو کے بیج کی پیداوار کے حوالے سے مرکز اور ریاست کے درمیان ایک تکنیکی تعاون سے متعلق مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط ہوئے ہیں۔

شملہ میں سی پی آر آئی کے ہیڈکوارٹر میں ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر برجیش سنگھ نے کہا کہ اعلیٰ معیار کے بیج کی پیداوار میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی مو¿ثر ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ہائی ٹیک بیج کی پیداوار، ٹشو کلچر اور ایروپونکس ٹیکنالوجی کے مو¿ثر فروغ کے ذریعے کسانوں کو صحت مند پودے لگانے کا مواد فراہم کرنا ممکن ہے۔ اس سے آلو کی پیداوار اور معیار میں اضافے کے ساتھ ساتھ کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مغربی بنگال میں آلو کے بیج کی تحقیق اور پیداوار سے متعلق معاملات پر ریاست-مرکز مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں اب ایک ٹیم بنائی جائے گی۔ فی الحال یہ طے ہوا ہے کہ شمالی بنگال اور جنوبی بنگال میں دو حصوں میں تحقیق کی جائے گی۔ بنگال کی آب و ہوا اور نوعیت کے مطابق آلو کے بیج پر تحقیق کی جائے گی۔ ایک زمانے میں ہماچل سے مغربی بنگال میں سب سے زیادہ آلو کا بیج سرکاری طور پر آتا تھا۔ بعد میں مختلف وجوہات کی بنا پر یہ بند ہو گیا۔ اس وقت پنجاب سے یہاں آلو کا بیج آتا ہے۔ ریاست میں ہی آلو کے بیج کی تحقیق اور پیداوار ہونے سے کاشت کے اخراجات میں کچھ کمی آئے گی، کیونکہ نقل و حمل کا خرچ کم ہو جائے گا۔

آلو کی پیداوار میں خود کفالت کی راہ پر بنگال، ریاست میں ہی بیج کی تحقیق ہوگی...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn