National

سدھو موسے والا قتل کیس: سپریم کورٹ نے ملزم پون بشنوئی کو ضمانت دے دی

سدھو موسے والا قتل کیس: سپریم کورٹ نے ملزم پون بشنوئی کو ضمانت دے دی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے 2022 کے قتل کیس کے ایک ملزم پون بشنوئی کو ضمانت دے دی۔ اسی مقدمے میں شریک ملزم جگتار سنگھ کو بھی عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بینچ نے کی۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد پون بشنوئی کو ضمانت دینے کا فیصلہ سنایا۔ پون بشنوئی پر الزام ہے کہ اس نے قتل کی واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کا انتظام کیا تھا۔ یاد رہے کہ پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کو مئی 2022 میں پنجاب میں اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا جب وہ اپنی کار میں سفر کر رہے تھے۔ حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 28 سالہ گلوکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔ سماعت کے دوران پون بشنوئی کے وکیل ابھے کمار نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل پر صرف یہ الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر اس گاڑی کا انتظام کیا تھا جو قتل کی واردات میں استعمال ہوئی۔ عدالت نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ بشنوئی کے لیے جیل میں رہنا زیادہ محفوظ ہو سکتا ہے۔ بینچ نے کہاکہ “آپ کی اپنی حفاظت کے لیے بہتر ہے کہ آپ جیل میں ہی رہیں۔” بشنوئی کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ان کے مؤکل کا بدنام زمانہ گینگسٹر لارنس بشنوئی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور صرف ان کے خاندانی نام ایک جیسے ہیں۔ دوسری جانب ریاستی حکومت کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پون بشنوئی کو قتل کی واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کے انتظام کے لیے شریک ملزمان کی جانب سے 41 فون کالز موصول ہوئی تھیں۔ دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کا کردار محدود تھا اور وہ تقریباً چار سال سے جیل میں قید ہیں، اس لیے انہیں ضمانت دی جانی چاہیے۔ سماعت کے دوران عدالت نے استغاثہ سے یہ سوال بھی کیا کہ جیل کے اندر سے موبائل فون کس طرح استعمال کیے جا رہے تھے۔ بینچ نے استفسار کیاکہ “جیل کے اندر موبائل فون کیسے استعمال ہوئے؟ کیا جیل کے حکام بھی اس سازش میں شامل ہیں؟ مقدمے کی سماعت کس مرحلے پر ہے؟” پون بشنوئی پر الزام ہے کہ وہ لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ ایک ماڈیول کا حصہ تھا جو سدھو موسے والا کے قتل کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں معاونت فراہم کر رہا تھا۔ اسی مقدمے میں شریک ملزم جگتار سنگھ، جو موسے والا کا پڑوسی بتایا جاتا ہے، پر الزام ہے کہ اس نے گلوکار کے گھر اور نقل و حرکت کی نگرانی (ریکی) میں مدد فراہم کی تھی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد اب دونوں ملزمان کو مقررہ شرائط کے تحت ضمانت پر رہا کیا جا سکے گا جبکہ مقدمے کی سماعت بدستور جاری رہے گی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments