National

سبریمالہ سماعت: مرکز نے دوبارہ کہا کہ مذہبی روایات سے متعلق امور پر فیصلہ کرنا عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں

سبریمالہ سماعت: مرکز نے دوبارہ کہا کہ مذہبی روایات سے متعلق امور پر فیصلہ کرنا عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں

نئی دہلی، 9 اپریل: مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں سبریمالہ معاملے کی سماعت کے تیسرے دن جمعرات کو ایک بار پھر کہا کہ آئینی عدالتیں آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کے تحت مذہبی عقائد، رسومات اور ایمان سے جڑے متنازعہ معاملات پر فیصلہ کرنے کے لیے موزوں نہیں ہیں، خاص طور پر جب ایسے سوالات آرٹیکل 14 (برابری کے حق) سے ٹکراتے ہوں۔ مرکز نے اس بات پر زور دیا کہ ججوں کے پاس ایسے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے ضروری 'تھیولوجیکل' (مذہبی علوم سے متعلق) بنیاد موجود نہیں ہوتی۔ سالسٹر جنرل تشار مہتا نے سماعت کے ابتدائی دو دنوں کے دوران بھی اسی موقف پر زور دیا تھا۔ سماعت کے آغاز میں مسٹر مہتا نے مذہبی روایات کے تنوع کو اجاگر کرنے کے لیے عدالت کے سامنے مزید مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے ان مندروں کا ذکر کیا جہاں مردوں کا داخلہ ممنوع ہے ، جہاں مرد پجاری خواتین عقیدت مندوں کے پا¶ں دھوتے ہیں اور کیرالہ کے ایک ایسے مندر کا بھی حوالہ دیا جہاں مردوں کو خواتین کے لباس میں داخل ہونا پڑتا ہے ۔ انہوں نے پشکر کے برہما مندر کی مثال بھی دی جہاں شادی شدہ مردوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے ۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ مرد یا عورت کے حق کا مسئلہ نہیں بلکہ تنوع کے احترام کا معاملہ ہے ۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں نو رکنی آئینی بنچ آرٹیکل 25، 26 اور 14 کے درمیان توازن اور ضروری مذہبی روایات کے دائرہ کار کا جائزہ لے رہی ہے ۔ اس بنچ میں جسٹس بی وی ناگرتنا، جسٹس ایم ایم سندریش، جسٹس احسان الدین امان اللہ، جسٹس اروند کمار، جسٹس آگسٹین جارج مسیح، جسٹس پرسنا بی ورا لے ، جسٹس آر مہادیون اور جسٹس جوی مالیا باگچی شامل ہیں۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments