نئی دہلی: سپریم کورٹ اور ملک بھر کی ہائی کورٹوں میں مفاد عامہ کی عرضیوں (پی آئی ایل) کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب خود عدلیہ کو بھی سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف پی آئی ایل نے سماجی انصاف، ماحولیاتی تحفظ اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں ایک مؤثر ہتھیار کا کردار ادا کیا ہے، وہیں دوسری جانب کئی عرضیاں محض تشہیری حربہ ثابت ہو رہی ہیں، جن سے قیمتی عدالتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ عدالتوں میں پی آئی ایل دائر کرنے کے رجحان میں اضافے کی ایک بڑی وجہ عوام میں حقوق کے تئیں بڑھتی ہوئی آگاہی ہے۔ لوگ اب براہِ راست عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے لگے ہیں تاکہ حکومت اور انتظامیہ کی جوابدہی طے کی جا سکے۔ ماحولیاتی آلودگی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی، بدعنوانی اور سماجی انصاف جیسے معاملات پر عوامی مفاد عرضیوں کے ذریعے کئی اہم فیصلے سامنے آئے ہیں۔ اسی وجہ سے بھارتی عدلیہ کا کردار مزید مضبوط ہوا اور سپریم کورٹ دنیا کی طاقتور ترین عدلیہ میں شمار ہونے لگی۔ تاہم، عدالتوں کا کہنا ہے کہ ہر پی آئی ایل واقعی عوامی مفاد میں نہیں ہوتی۔ کئی عرضیاں ذاتی تشہیر، غیر ضروری مداخلت یا محض سنسنی پھیلانے کے لیے دائر کی جاتی ہیں۔ اسی پس منظر میں سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹوں نے متعدد معاملات میں سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے بے بنیاد پی آئی ایل پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے ہیں۔ سال 2017 میں سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے کے دوران عوامی مفاد عرضی کے غلط استعمال پر سخت ناراضگی ظاہر کی تھی۔ اس وقت سماجی کارکن ٹی جے ابراہم نے کرناٹک حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں گلبرگہ ضلع میں ایک ذیلی اسمبلی منتقل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ عدالت نے اس عرضی کو عوامی مفاد کے اصولوں کا غلط استعمال قرار دیتے ہوئے درخواست گزار پر 25 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ اسی طرح ایک اور غیر معمولی پی آئی ایل میں درخواست گزار نے مطالبہ کیا تھا کہ سوامی انوکول چندر ٹھاکر کو ملک کا واحد بھگوان ماننے کی ہدایت دی جائے۔ اس پر سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ جو چاہیں مان سکتے ہیں، لیکن پورے ملک کے شہریوں کو کسی ایک عقیدے کو ماننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ عدالت نے اس عرضی کو مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ایک این جی او کے خلاف بھی سخت کارروائی کی تھی، جس نے بار بار عدالتی دائرہ اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے 64 مفاد عامہ کی عرضیاں دائر کی تھیں۔ عدالت نے این جی او اور اس کے صدر راجیو دہیا کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے 25 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا اور واضح کیا کہ پی آئی ایل کا مقصد عوامی بھلائی ہے، نہ کہ عدالتوں کو مصروف رکھنا۔ نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ مختلف ہائی کورٹیں بھی بے بنیاد مفاد عامہ کی عرضیوں پر جرمانے عائد کر چکی ہیں۔ تاہم، اس معاملے پر قانونی ماہرین میں اختلافِ رائے بھی پایا جاتا ہے۔ کئی پی آئی ایل دائر کرنے والے ششانک دیو سدھی کا کہنا ہے کہ 1986 میں اُس وقت کے چیف جسٹس پی این بھگوتی نے مفاد عامہ کی عرضی کو ایک ضروری عدالتی ذریعہ قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق صرف تقریباً پانچ فیصد پی آئی ایل ایسی ہوتی ہیں جو واقعی سماعت کے قابل نہیں ہوتیں، اس لیے تمام پی آئی ایل کو عدالتی وقت کی بربادی کہنا درست نہیں۔ دوسری جانب سپریم کورٹ کے وکیل ستیَم سنگھ راجپوت کا کہنا ہے کہ کئی بار عدالتیں خود بھی اخبارات یا میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر عوامی مفاد کے معاملات میں از خود نوٹس لیتی ہیں۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں میں خط و کتابت کے شعبے بھی موجود ہیں، جہاں خطوط کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات پر اگر عدالت کو عوامی مفاد نظر آتا ہے تو وہ کارروائی شروع کر دیتی ہے اور مرکز، ریاستی حکومت یا متعلقہ محکموں کو نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مفاد عامہ کی عرضی ایک طاقتور عدالتی ذریعہ ہے، مگر اس کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ بے بنیاد اور غیر سنجیدہ عرضیاں نہ صرف عدالتی وقت ضائع کرتی ہیں بلکہ حقیقی عوامی مسائل کی سماعت میں تاخیر کا سبب بھی بنتی ہیں۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو