Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

سلیم شیخ ،بزرگوں کو اپنے ای رکشا سے مفت سواری کراتا ہے

Admin
By Admin
Oct 23, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

BAGRESHWAR BABA KI TASVEER JALANE PAR CM SUVENDU ADHIKARI SAKHT, KOLKATA POLICE KO ARRSTE KA DIYA HUKM

سلیم شیخ ،بزرگوں کو اپنے ای رکشا سے مفت سواری کراتا ہے
سلیم شیخ ،بزرگوں کو اپنے ای رکشا سے مفت سواری کراتا ہے — October 23, 2026
سلیم شیخ ،بزرگوں کو اپنے ای رکشا سے مفت سواری کراتا ہے
مغربی بنگال کے مرشدآباد ضلع کے بہرام پور شہر کی مصروف سڑکوں پر 30 سالہ سلیم شیخ بظاہر روزی روٹی کمانے کی کوشش کرنے والے ایک عام ای رکشہ ڈرائیور نظر آتے ہیں۔لیکن ان کے رابطے میں آنے والے بہت سے لوگوں کے لیے ان کا ای رکشہ مہربانی اور انسانیت کی ایک چھوٹی سی مثال بن جاتا ہے۔ اپریل میں ای رکشہ خریدنے اور خود اپنا کام شروع کرنے کے بعد سلیم نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا کہ وہ بزرگوں اور بچوں سے کرایہ نہیں لیں گے۔
ان کے لیے یہ قدم نہ تو اضافی پیسوں کی وجہ سے کی جانے والی خیرات ہے اور نہ ہی لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی کوشش۔ بلکہ یہ اپنی دادی ارجن بی بی کے لیے خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک طریقہ ہے، جنہوں نے والد کی وفات اور والدہ کے خاندان کو چھوڑ دینے کے بعد ان کی پرورش کی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں، جسے غربت کی وجہ سے انہیں خود ادھورا چھوڑنا پڑا تھا۔
سلیم بہرام پور سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور گاکونڈا گاو¿ں کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے ہائر سیکنڈری کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہرام پور کالج میں بی اے کے کورس میں داخلہ لیا تھا، لیکن غربت کے باعث انہیں پڑھائی چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد انہوں نے ڈرائیونگ سیکھی، لائسنس حاصل کیا اور کئی لوگوں کے یہاں ڈرائیور کے طور پر کام کیا۔ بالآخر اسی سال انہوں نے اپنا ای رکشہ خرید لیا۔
سلیم نے بتایا، ”میری دادی ارجن بی بی نے میری اور میری جسمانی طور پر معذور بہن کی پرورش کی۔ میرے دادا اتنے بیمار تھے کہ کما نہیں سکتے تھے۔ میری دادی مختلف محلوں میں کپڑے فروخت کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے ہمارے لیے بہت کچھ کیا۔“انہوں نے مزید کہا، ”اسی لیے جب میرے ای رکشے میں کوئی بزرگ بیٹھتا ہے تو میں اس سے کرایہ نہیں لے پاتا۔ مجھے ان میں اپنے دادا دادی کے چہرے نظر آتے ہیں۔“سلیم اپنی اہلیہ ساحلہ خاتون، سات سالہ بیٹے صادق، جو پہلی جماعت میں پڑھتا ہے، اپنی معذور بہن اور دادی کے ساتھ رہتے ہیں۔
سلیم نے کہا، ”پیسوں کی کمی کی وجہ سے میں اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکا۔ اسی لیے میں طلبہ سے بھی کرایہ نہیں لیتا۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ جو پیسے بچیں، ان سے اپنی پڑھائی پر توجہ دیں اور اچھی طرح تعلیم حاصل کریں۔ اگر کوئی طالب علم اصرار کرکے کرایہ دینا چاہتا ہے تو میں اس سے کہتا ہوں کہ میرے لیے دعا کر دے۔“
”دل لگا کر پڑھائی کرو، اپنے اساتذہ کی بات مانو اور ایک اچھے انسان بنو۔“

سلیم شیخ ،بزرگوں کو اپنے ای رکشا سے مفت سواری کراتا ہے...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn