کولکاتا سمیت جنوبی بنگال میں پھر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان
کیلنڈر کے مطابق خزاں کا موسم گزر کر ہیمانت شروع ہو چکا ہے۔ مانسون بھی باضابطہ طور پر رخصت ہو گیا ہے، لیکن کم دباو¿ کے علاقوں کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ جمعہ کو خلیج بنگال میں ایک بار پھر کم دباو¿ کا علاقہ بننے والا ہے۔ علی پور محکمہ موسمیات کے مطابق، اس کے اثر سے آئندہ ہفتے کولکاتا اور آس پاس کے اضلاع میں بارش ہو سکتی ہے۔
جنوب مشرقی اور اس سے متصل وسطی مشرقی خلیج بنگال میں ایک گردابی ہواو¿ں کا نظام موجود ہے۔ اگلے چند گھنٹوں میں یہ آہستہ آہستہ مغرب اور شمال مغرب کی جانب بڑھے گا۔ اس کے نتیجے میں جمعہ کو جنوب مشرقی خلیج بنگال میں کم دباو¿ کا علاقہ بننے کا امکان ہے۔ یہ نظام بتدریج شمال اور شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اس کا اثر ساحلی اضلاع میں پڑنے کا امکان ہے۔
کولکاتا سمیت جنوبی بنگال کے اضلاع میں مجموعی طور پر موسم خشک رہے گا۔ تاہم، منگل سے بعض اضلاع میں دوبارہ بارش شروع ہو سکتی ہے۔
منگل کو کولکاتا، ہاوڑہ، ہوگلی، شمالی 24 پرگنہ، جنوبی 24 پرگنہ، مشرقی مدناپور، مغربی مدناپور اور جھاڑگرام میں کہیں کہیں ایک یا دو مرتبہ ہلکی بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران آسمانی بجلی بھی گر سکتی ہے۔
بدھ اور جمعرات کو ان اضلاع کے علاوہ جنوبی بنگال کے باقی تمام اضلاع میں بھی کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے۔ تاہم، کسی بھی مقام پر موسلادھار بارش کا امکان نہیں ہے۔ فی الحال درجہ? حرارت میں بھی کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔
شمالی بنگال میں بھی مجموعی طور پر موسم خشک رہے گا، لیکن آئندہ ہفتے بعض اضلاع میں کہیں کہیں بارش ہو سکتی ہے۔ بدھ سے دارجلنگ اور کالمپونگ سمیت شمالی بنگال کے تمام اضلاع میں ہلکی بارش کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ تیز ہوائیں چلنے اور آسمانی بجلی گرنے کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔ فی الحال درجہ حرارت میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔
جمعہ کی صبح کولکاتا میں کم سے کم درجہ? حرارت 24.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 1.4 ڈگری زیادہ ہے۔ جمعرات کو شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ? حرارت 32.6 ڈگری سیلسیس رہا، جو معمول سے 0.2 ڈگری زیادہ تھا۔
کولکاتا سمیت جنوبی بنگال میں پھر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments