National

سابق کرکٹر محمد اظہرالدین کے بنگلے کی مرمت پر خرچ ہوں گے 76 لاکھ روپے، اپوزیشن نے اٹھائے سوال

سابق کرکٹر محمد اظہرالدین کے بنگلے کی مرمت پر خرچ ہوں گے 76 لاکھ روپے، اپوزیشن نے اٹھائے سوال

تلنگانہ میں حکومت نے اقلیتی فلاح و بہبود کے وزیر اور سابق کرکٹر محمد اظہرالدین کے سرکاری بنگلے کی مرمت کے لیے 76 لاکھ روپے کی منظوری دی ہے، جس کے بعد اپوزیشن نے ریاست کی مالی صورتحال کو حوالہ دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ رہائش تقریباً 15 سال سے خالی پڑی تھی اور انتہائی خستہ حالت میں تھی، اس لیے مرمت ناگزیر تھی۔ ریاستی حکومت نے حال ہی میں محمد اظہرالدین کو یہ سرکاری رہائش الاٹ کی تھی۔ سڑک اور تعمیرات کے محکمہ کی جانب سے جاری حکومتی احکامات کے مطابق یہ رقم سرکاری رہائشی عمارتوں کے کیپیٹل آؤٹلے کے تحت منظور کی گئی ہے۔ اس مرمتی کام میں چھت کی سلیب کی واٹر پروفنگ، فرش کی ٹائلنگ، یو پی وی سی کھڑکیاں لگانا، ماڈیولر کچن کی تنصیب، دیواروں کی مرمت اور پینٹنگ شامل ہیں۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ مرمت کا یہ اقدام مکمل طور پر جائز ہے کیونکہ عمارت تقریباً 15 سال سے غیر استعمال شدہ تھی اور وزیر کو الاٹ کرنے سے قبل یہ انتہائی خستہ حالت میں تھی۔ تاہم، اس فیصلے نے سیاسی تنازع اور عوامی تنقید کو جنم دیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب حکومت مالی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں اور پینڈنگ بلوں کی ادائیگی میں دشواری کا ذکر کر رہی ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں میں ریاستی حکومت نے مبینہ طور پر وزراء کے سرکاری رہائش گاہوں میں مرمت اور صفائی کے کاموں پر ایک کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے ہیں۔ اس میں صحت کے وزیر کے بنگلے کی اپ گریڈیشن کے لیے 30 لاکھ روپے کا خرچ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ دیگر وزراء کے رہائش گاہوں میں بھی معمولی اور بڑی مرمت کی گئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی حالیہ دنوں میں مالی مشکلات اور ترقیاتی کاموں کی کمی پر زور دے رہے ہیں، لیکن وزراء کے رہائش گاہوں پر بڑے پیمانے پر خرچ ان کی ترجیحات اور عوامی مفاد کے درمیان تضاد ظاہر کرتا ہے۔ سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق، اس معاملے نے تلنگانہ میں مالی شفافیت اور حکومتی ترجیحات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوام اور میڈیا میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا ایسے مہنگے مرمتی کام کو ترجیح دی جانی چاہیے جب ریاست ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کے لیے مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہو۔ تلنگانہ حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مرمت لازمی اور سرکاری اصولوں کے مطابق کی گئی ہے، تاہم اپوزیشن اور عوامی حلقے اس کی ضرورت اور مناسبیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ یہ معاملہ آئندہ چند دنوں میں سیاسی بحث اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنتا دکھائی دیتا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments