National

سابق آرمی چیف کے موقف سے حکومت اتنی خوفزدہ کیوں؟ لوک سبھا تعطل پر راہل گاندھی کا سخت حملہ

سابق آرمی چیف کے موقف سے حکومت اتنی خوفزدہ کیوں؟ لوک سبھا تعطل پر راہل گاندھی کا سخت حملہ

نئی دہلی: لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریے کی تحریک کے دوران پیدا ہونے والے شدید تعطل کے بعد کانگریس کے سینئر رہنما اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پیر کے روز حکومت پر زبردست حملہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے مؤقف سے حکومت آخر اتنی خوفزدہ کیوں ہے؟ پارلیمنٹ کی کارروائی معطل ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ جنرل نرونے کی غیر مطبوعہ یادداشت کو جان بوجھ کر شائع ہونے سے روکا جا رہا ہے کیونکہ اگر یہ کتاب منظر عام پر آ گئی تو وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی حقیقت عوام کے سامنے بے نقاب ہو جائے گی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ وہ جو کچھ ایوان میں کہنا چاہتے تھے وہ ان کی ذاتی رائے نہیں بلکہ سابق آرمی چیف کی لکھی ہوئی یادداشت پر مبنی ایک مضمون کا حوالہ تھا۔ انہوں نے کہا: ’’یہ میری بات نہیں ہے، یہ وہ بات ہے جو سابق آرمی چیف نے اپنی کتاب میں لکھی ہے۔ یہ کتاب شائع نہیں ہونے دی جا رہی۔ یہ دبی ہوئی ہے۔ یہ سابق آرمی چیف کا نقطۂ نظر ہے۔ آخر حکومت کو اس نقطۂ نظر سے اتنا خوف کیوں ہے؟ ہم اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں، ہم وزیراعظم کے بارے میں بھی کچھ جان سکتے ہیں، ہم راج ناتھ سنگھ جی کے بارے میں بھی سمجھ سکتے ہیں اور یہ بھی جان سکتے ہیں کہ سیاسی قیادت نے کس طرح فوج کو مایوس کیا۔‘‘ راہل گاندھی نے کہا کہ 2020 میں مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ سرحدی تنازع ایک نہایت سنجیدہ اور حساس مسئلہ ہے، جس پر پارلیمنٹ میں کھلے طور پر بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے۔ میں صرف دو تین سطریں پڑھنا چاہتا تھا، مگر مجھے بولنے نہیں دیا جا رہا۔ سابق آرمی چیف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم اور وزیر دفاع سے کیا بات کی اور انہیں کیا احکامات ملے۔ میں صرف وہی بات ایوان میں رکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ زمین گئی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ملک کے وزیر اعظم کو بحران کے وقت کس طرح قیادت کرنی چاہیے تھی۔ راہل گاندھی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا: ’’ملک کا لیڈر راستہ دکھاتا ہے، فیصلوں سے بھاگتا نہیں اور ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر نہیں ڈالتا، لیکن یہاں ایسا ہی ہوا۔‘‘ راہل گاندھی نے حکومت پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر جنرل نرونے کی یادداشت منظرعام پر آ گئی تو چین کے مقابلے میں حکومت کے رویے اور فیصلوں کی حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا: ’’جب چین ہمارے سامنے کھڑا تھا اور آگے بڑھ رہا تھا تو وہ مشہور ’56 انچ کا سینہ‘ کہاں چلا گیا؟ حکومت اسی سچ کے سامنے آنے سے خوفزدہ ہے۔‘‘ اس پورے واقعے کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ماحول میں شدید کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ اپوزیشن اسے اہم قومی مسئلے پر بحث روکنے کی کوشش قرار دے رہی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ پارلیمانی قواعد کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ چین کے ساتھ سرحدی تنازع، قومی سلامتی اور سابق آرمی چیف کی غیر مطبوعہ یادداشت کے حوالے سے پیدا ہونے والا یہ تنازع آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ 2026 کے انتخابی ماحول میں یہ مسئلہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک بڑے سیاسی معرکے کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

Source: Social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments