National

ریلیز سے پہلے ہی تنازعات میں سابق آرمی چیف جنرل نرونے کی کتاب، دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے درج کیا مقدمہ

ریلیز سے پہلے ہی تنازعات میں سابق آرمی چیف جنرل نرونے کی کتاب، دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے درج کیا مقدمہ

نئی دہلی: سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل منوج مکند نرونے کی مجوزہ کتاب ریلیز سے قبل ہی شدید تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے کتاب کی پری پرنٹ کاپی مبینہ طور پر لیک ہونے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کتاب کی ایک ٹائپ سیٹ پی ڈی ایف کاپی بعض ویب سائٹس پر دستیاب ہے، جبکہ اسے ابھی تک سرکاری طور پر شائع کرنے کی منظوری نہیں ملی ہے۔ دہلی پولیس نے اس معاملے کا ازخود نوٹس اس وقت لیا جب سوشل میڈیا اور چند نیوز فورمز پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ جنرل نرونے کی کتاب ”فور اسٹارز آف ڈیسٹنی“ کی پری پرنٹ کاپی آن لائن گردش کر رہی ہے۔ بتایا گیا کہ یہ کتاب ابھی متعلقہ حکام سے حتمی منظوری کے مرحلے میں ہے اور اس کی باقاعدہ ریلیز نہیں ہوئی ہے، اس کے باوجود اس کا مواد عوامی پلیٹ فارمز پر دکھائی دے رہا ہے۔ پولیس کی جانچ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اسی نام سے ایک مکمل ٹائپ سیٹ کتاب کی پی ڈی ایف کچھ ویب سائٹس پر اپ لوڈ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چند آن لائن مارکیٹنگ اور ای کامرس پلیٹ فارمز پر کتاب کا فائنل کور بھی نمایاں کیا جا رہا ہے، جس سے ایسا تاثر ملتا ہے جیسے کتاب فروخت کے لیے تیار ہو۔ ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے بغیر اجازت اشاعت اور ممکنہ لیک کے خدشے کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کتاب کی پی ڈی ایف فائل کس نے تیار کی، کس ذریعے سے اور کس مقصد کے تحت اسے آن لائن اپ لوڈ کیا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا اس لیک کے پیچھے کوئی منظم گروہ یا تجارتی مفاد تو کارفرما نہیں ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جنرل نرونے کی اس کتاب کا ذکر حال ہی میں پارلیمنٹ میں بھی ہو چکا ہے۔ لوک سبھا میں صدر کے خطبے پر بحث کے دوران کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے چینی دراندازی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے جنرل نرونے کی کتاب کا حوالہ دیا تھا۔ راہل گاندھی پارلیمنٹ میں اس کتاب کی ایک کاپی لے کر پہنچے تھے اور اس کے ایک حصے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جب چین کے ٹینک بھارتی سرحد کی جانب بڑھ رہے تھے، اس وقت وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ذمہ داری درست طریقے سے نہیں نبھائی۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وزیر اعظم ایوان میں آئیں گے تو وہ یہ کتاب انہیں تحفے میں دیں گے۔ تاہم، کتاب کے باضابطہ طور پر شائع ہونے سے پہلے اس کے مواد کے منظر عام پر آنے اور سیاسی مباحثے کا حصہ بننے کے بعد یہ معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے۔ اب دہلی پولیس کی تفتیش سے ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ اس لیک کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے اور ذمہ دار کون ہے؟

Source: social medaa

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments