Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Kolkata

آر ایس ایس کے نوجوان اجلاس میں کاکروچ کے خلاف تنبیہ: پہلی بار آنے والوں کو ’قوم پرستی‘ کا سبق

Admin
By Admin
Sep 15, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

ARSALAN RESTAURANT KA BADA ELAN, FOOD SAFETY KE LIYE NAYE RULES LAGU

آر ایس ایس کے نوجوان اجلاس میں کاکروچ کے خلاف تنبیہ: پہلی بار آنے والوں کو ’قوم پرستی‘ کا سبق
آر ایس ایس کے نوجوان اجلاس میں کاکروچ کے خلاف تنبیہ: پہلی بار آنے والوں کو ’قوم پرستی‘ کا سبق — September 15, 2026
آر ایس ایس کے نوجوان اجلاس میں کاکروچ کے خلاف تنبیہ: پہلی بار آنے والوں کو ’قوم پرستی‘ کا سبق

“ہندو میرا بھائی، ہم ہندو ہیں، ہمارا ملک ہندوستان ہے۔”آر ایس ایس کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے شمالی 24 پرگنہ کے حسن آباد سے تقریباً 83 کلومیٹر دور س±لکونی فلڈ سینٹر میں جمع ہونے والے ایک ہزار سے زائد نوجوانوں کو اپنے ساتھ یہ گیت گانے کی ہدایت دی۔
انہوں نے کہا، “اگر آپ مانیں کہ 1,200 لوگ آئے تھے، تو ان میں کم از کم 1,000 افراد کی عمر 18 سے 40 سال کے درمیان ہے اور وہ پہلی بار آر ایس ایس کے کسی پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں۔”
6 ستمبر کو س±لکونی گاو¿ں میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام، جو ایک دور دراز جزیرہ ہے اور جہاں صرف کشتی کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے، بنگال میں آر ایس ایس کی جانب سے اپنی صد سالہ تقریبات کے تحت منعقد کیے جانے والے چند سو ’یوا سمیلن‘ (نوجوان کانفرنسوں) میں سے ایک تھا۔آر ایس ایس کے ایک ذرائع نے کہا کہ ایسے وقت میں ان کا مقصد واضح ہے جب کچھ طاقتیں نوجوانوں کو حکومت کے خلاف بدامنی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا اشارہ دہلی کے جنتر منتر پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے حالیہ احتجاج کی طرف تھا۔
اگرچہ س±لکونی کا یہ پروگرام دہلی کے جنتر منتر پر جولائی میں شروع ہونے والی سی جے پی تحریک سے پہلے ہی اعلان کیا جا چکا تھا، لیکن ذرائع نے کہا کہ ایسے اجلاس سیمینار اور آر ایس ایس کی روایتی جسمانی مشقوں جیسی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوان ذہنوں کو قوم پرستی کی نظریے سے جوڑنے میں مدد کریں گے۔
آر ایس ایس کے دکشن بنگ پرانت پرچار پرمکھ بپلَب رائے نے کہا، “آر ایس ایس کے قیام کے وقت سے ہی ہم نوجوانوں تک پہنچتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ صد سالہ تقریبات کے موقع پر یوا سمیلن کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں سے ملاقات کرنا ایک اہم پہل ہے۔ نوجوان کانفرنسیں انہیں آر ایس ایس میں حب الوطنی اور نظم و ضبط کی روح کا احساس دلائیں گی، جو انہیں کاکروچ بننے کے بجائے ملک کی خدمت کے اپنے مقصد کی طرف لے جائے گی۔”ایک سیمینار میں کلکتہ سے تعلق رکھنے والے آر ایس ایس کے ایک سینئر رہنما نے ہندوتوا کے موضوع، ملک کی تاریخ اور عطیش دیپانکر جیسی ہمہ جہت علمی شخصیات کی خدمات سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔
انہوں نے آر ایس ایس کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے اس کے بانی کیشو بالیرام ہیڈگوار کے کردار کو اجاگر کیا اور یہ واقعات بھی سنائے کہ ہیڈگوار نے نوجوانوں کو کس طرح متحد کیا تھا۔کانفرنس میں شرکاءکو آر ایس ایس کے نظم و ضبط کے بارے میں بتایا گیا، خاص طور پر قطار میں بیٹھنے اور مقررین کی بات توجہ سے سننے کا طریقہ سکھایا گیا۔ ہال نہ صرف مکمل طور پر بھرا ہوا تھا بلکہ چند سو شرکائ ، جنہیں اندر جگہ نہیں مل سکی، قریبی میدان میں جمع ہو کر گیت اور تقاریر سنتے رہے۔ایک رہنما نے نوجوانوں سے کہا، “جن زی کو ایک مخصوص عمر کے گروپ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یاد رکھیں، اس کا مقصد معاشرے سے اس طبقے کو الگ کرنا ہے۔ ہمیں ملک کے لیے، اپنی بھارت ماتا کی بہتری کے لیے متحد ہونا ہوگا۔”
بنگال میں آر ایس ایس کی جاری رابطہ مہم کا مرکز ایسے نوجوان ہیں جو پہلے کبھی اس تنظیم کا حصہ نہیں رہے۔ یہ مہم صد سالہ تقریبات کے تحت یکم ستمبر کو شروع ہوئی اور 15 ستمبر کو ختم ہوگی۔ ہر کھنڈ (بلاک) اور شہروں کے ہر وارڈ میں کم از کم ایک ایسی کانفرنس منعقد کرنے کی ہدایت ہے۔ ریاست میں 341 بلاک اور 128 شہری بلدیاتی ادارے ہیں۔اگر ہر بلاک آر ایس ایس کے نظریے کے تحت 1,000 نوجوانوں کو لاتا ہے تو صرف دیہی علاقوں میں یہ تعداد 3 لاکھ سے زیادہ ہو جائے گی۔کلکتہ میں آر ایس ایس کے ایک سینئر رہنما نے کہا، “اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ہمیں کم از کم 2.5 لاکھ نوجوانوں تک پہنچنے کی امید ہے۔”حسن آباد کے مقام پر آدھے گھنٹے کے نظریاتی اجلاس کے بعد تمام شرکاءکو جسمانی سرگرمیوں یا ’شاریرک شکشن‘ کے لیے قریبی میدان میں جانے کو کہا گیا۔ ٹرینرز نے انہیں مشقیں کرائیں۔ انہیں زعفرانی پرچم کو سلامی دینے (دھوج پرنام) اور تنظیم کی دیگر روایات بھی سکھائی گئیں۔
حسن آباد کے ایک کالج میں گریجویشن کے پہلے سال کے 19 سالہ طالب علم نے کہا، “میں پہلی بار اس اجلاس میں شریک ہوا ہوں۔ میرے کالج کے ایک سینئر نے مجھے اس کے بارے میں بتایا تھا۔ یہ واقعی دلچسپ تھا۔ میں آئندہ بھی ایسے پروگراموں میں آتا رہوں گا۔”تعارفی اجلاس کے بعد سنگھ کے رہنما نئے آنے والوں سے رابطے میں رہیں گے اور ان کے علاقوں کے مختلف گاو¿ں یا بستیوں میں ’شاکھائیں‘ قائم کریں گے۔10 اکتوبر، یعنی مہالیا کے دن، تمام نئی شاکھائیں اپنے اجلاس منعقد کریں گی اور شاکھاو¿ں کی حتمی تعداد کا شمار شروع ہوگا۔ایک ذریعے نے بتایا کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد گاو¿ں اور قصبوں میں آر ایس ایس کی شاکھاو¿ں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ہندوتوا تنظیموں کی بنیاد سمجھے جانے والے آر ایس ایس نے گزشتہ سال بنگال میں تقریباً 4,500 یونٹس قائم کیے تھے، جنہیں تین زمروں—شاکھاو¿ں، ملن اور منڈلی—میں تقسیم کیا گیا تھا، جو بالترتیب روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ اجلاس ہوتے ہیں۔ایک ذریعے نے کہا کہ نئی یونٹس کی سرکاری تعداد سامنے آنے کے بعد یہ مجموعی تعداد 10,000 تک پہنچ سکتی ہے۔تاہم حتمی تعداد مہالیا کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
حسن آباد میں نوجوان کانفرنس کے ایک منتظم نے دی ٹیلی گراف سے کہا کہ یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ صرف ہندو نوجوان ہی آر ایس ایس میں شامل ہونے کے لیے آگے آ رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا، “ہمارے علاقوں کے بہت سے مسلم نوجوانوں نے بھی ہماری سرگرمیوں کا حصہ بننے کے لیے ہم سے رابطہ کیا ہے۔ حسن آباد ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ کمیونٹی کے کچھ نوجوانوں نے ہم سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ وہ اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ ہم نے اپنے سینئرز سے بات کی ہے اور جلد ہی ان سے ملاقات کریں گے۔”

آر ایس ایس کے نوجوان اجلاس میں کاکروچ کے خلاف تنبیہ: پہلی بار آنے والوں کو ’قوم پرستی‘ کا سبق...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn