National

روہت پوار کا اجیت پوار طیارہ حادثے پر شبہ، سازش کا خدشہ ظاہر ، حادثے کو محض اتفاق ماننے سے انکار

روہت پوار کا اجیت پوار طیارہ حادثے پر شبہ، سازش کا خدشہ ظاہر ، حادثے کو محض اتفاق ماننے سے انکار

ممبئی ، 10 فروری : این سی پی (شرد پوار) کے سینئر رہنما روہت پوار نے آج دعویٰ کیا کہ بارامتی میں پیش آنے والا اجیت پوار کا طیارہ حادثہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے سازش ممکن ہے ۔ ممبئی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بارے میں کئی ایسے نکات ہیں جو سرکاری بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتے اور جن پر گہری اور غیر جانبدار جانچ ضروری ہے ۔ مسٹر روہت پوار نے اس موقع پر ایک پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کی، جس میں انہوں نے 28 جنوری 2026 کو پیش آنے والے حادثے سے قبل اور بعد کے حالات میں مبینہ تضادات کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق، حادثے سے ایک دن قبل اجیت پوار کا ممبئی سے پونے سڑک کے راستے سفر طے تھا اور قافلہ روانہ بھی ہو چکا تھا، تاہم اچانک منصوبہ کیوں بدلا گیا اور طے شدہ زمینی سفر کے بجائے فضائی سفر کا فیصلہ کیوں کیا گیا، یہ ایک اہم سوال ہے ۔ انہوں نے طیارے کے پائلٹ کپتان سمت کپور کے حوالے سے بھی سنگین خدشات ظاہر کیے ۔ روہت پوار کا کہنا تھا کہ کپتان سمت کپور کو ماضی میں شراب نوشی سے متعلق معاملات پر 3 برس کے لیے معطل کیا جا چکا تھا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مشکل سمجھے جانے والے رن وے 11 کے استعمال پر اصرار کیوں کیا گیا اور محدود حدِ بصارت کے باوجود لینڈنگ کی کوشش کیوں کی گئی۔ مسٹر روہت پوار نے ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں درج ہے کہ کسی شخص کو نقصان پہنچانے کا سب سے آسان طریقہ اس کے ڈرائیور کو نشانہ بنانا ہے اور اسی تناظر میں انہوں نے اس حادثے کو محض اتفاق ماننے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرائم انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ اکیلے اس معاملے کی مکمل جانچ کا اختیار نہیں رکھتی، اس لیے اس کیس کی تحقیقات کئی ماہر اور آزاد اداروں کے ذریعے کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا حادثے سے قبل آخری لمحات میں طیارے کا ٹرانسپونڈر جان بوجھ کر بند کیا گیا تھا یا نہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ پائلٹ سمت کپور اور شمبھاوی پاٹھک ایئرپورٹ تک کیسے پہنچے ، جب کہ پہلے سے مقرر پائلٹ ساحل مدن اور یش ٹریفک میں پھنس جانے کی وجہ سے تاخیر کا شکار تھے ۔ ان کے مطابق یہ بھی واضح کیا جانا چاہیے کہ متبادل پائلٹس آیا قریب ہی مقیم تھے اور انہیں اچانک کیوں تعینات کیا گیا۔ مسٹر روہت پوار نے وی ایس آر کمپنی پر بھی سنگین الزامات عائد کیے ، جو اس لیئر جیٹ طیارے کی مالک تھی جس میں اجیت پوار سفر کر رہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کمپنی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کے بعض عہدیداروں پر اثر و رسوخ استعمال کیا اور ماضی کے واقعات کے باوجود احتساب سے بچتی رہی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 میں وی ایس آر کمپنی کے ایک طیارے کے حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ پیش ہو چکی ہے ، اس کے باوجود کمپنی کے طیارے اعلیٰ سیاسی شخصیات کے لیے استعمال ہوتے رہے اور اس کا لائسنس منسوخ نہیں کیا گیا۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر روہت پوار نے ایک بار پھر شفاف، آزاد اور وسیع دائرئہ کار پر مشتمل جانچ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ، بیورو آف انکوائری اینڈ اینالیسس فار سول ایوی ایشن سیفٹی، برطانیہ کے ایئر ایکسیڈنٹس انویسٹی گیشن برانچ سمیت متعلقہ ہندستانی اداروں پر مشتمل تحقیقات ہی عوامی شکوک کو دور کر سکتی ہیں اور اجیت پوار کی آنجہانی موت کے اصل حقائق سامنے لا سکتی ہیں۔

Source: UNI NEWS

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments