National

روسی تیل پر امریکی چھوٹ ختم، کیا بھارت میں پھر مہنگا ہوگا پٹرول اور ڈیزل؟

روسی تیل پر امریکی چھوٹ ختم، کیا بھارت میں پھر مہنگا ہوگا پٹرول اور ڈیزل؟

نئی دہلی :دنیا اس وقت تیل کے سنگین بحران سے گزر رہی ہے اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی بازار کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت سست پڑنے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں امریکہ کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر دی گئی رعایت ختم کیے جانے کے فیصلے نے بھارت کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ابتدائی طور پر امریکہ نے چند ممالک کو روسی تیل خریدنے میں محدود چھوٹ دی تھی، جس کے باعث بھارت مسلسل روس سے سستا خام تیل درآمد کرتا رہا۔ اس رعایت کی بدولت بھارت عالمی تیل بحران کے بڑے جھٹکے سے کافی حد تک محفوظ رہا، لیکن اب ٹرمپ انتظامیہ نے اس چھوٹ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد بھارتی توانائی شعبے پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ صرف سفارتی یا کاغذی کارروائی نہیں بلکہ بھارت کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جبکہ انشورنس لاگت میں بھی زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ جنگی حالات سے پہلے خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی، جو اب بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔بھارت اس وقت دوہری مشکل میں گھرا ہوا ہے۔ ایک طرف مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، دوسری جانب روسی تیل پر پابندیوں کا خطرہ دوبارہ منڈلا رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں حال ہی میں تقریباً تین روپے فی لیٹر اضافہ کیا جا چکا ہے، عوام میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگے ہوں گے؟ اعداد و شمار کے مطابق بھارت اپنی ضرورت کا 85 فیصد سے زیادہ خام تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کا ہر اتار چڑھاؤ براہ راست بھارتی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں اضافہ، حکومتی مالی بوجھ، گھریلو بجٹ اور اقتصادی ترقی سب متاثر ہوتے ہیں۔ کیپلر کے اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے میں بھارت نے ریکارڈ 23 لاکھ بیرل یومیہ روسی خام تیل درآمد کیا۔ بعض مہینوں میں بھارت کی کل تیل درآمدات میں روسی تیل کا حصہ تقریباً نصف تک پہنچ گیا تھا۔ روس سے سستا خام تیل خریدنے کی وجہ سے بھارت عالمی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے میں کامیاب رہا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پابندیوں کے خوف سے بھارتی ریفائنری کمپنیاں روسی تیل کی خریداری کم کرتی ہیں تو انہیں دوبارہ مشرق وسطیٰ کے سپلائرز پر انحصار کرنا پڑے گا، جہاں پہلے ہی عدم استحکام اور قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر پٹرول، ڈیزل، ایل پی جی سلنڈر، ہوائی کرایوں اور ٹرانسپورٹ لاگت پر پڑ سکتا ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments