Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
Bengal

روپ وے سے کرسیانگ سے دارجلنگ صرف 45 منٹ میں، پہاڑوں میں گھنٹوں ٹریفک جام سے اب ملے گی نجات!

Admin
By Admin
Oct 07, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

SAHLBONI LAND CSE MEIN ABHISHEK BANERJEE KE PA SUMIT ROY GIRAFTAR, APEX COURT SE NTICIPATORY BAIL HUI KHARIJ

روپ وے سے کرسیانگ سے دارجلنگ صرف 45 منٹ میں، پہاڑوں میں گھنٹوں ٹریفک جام سے اب ملے گی نجات!
روپ وے سے کرسیانگ سے دارجلنگ صرف 45 منٹ میں، پہاڑوں میں گھنٹوں ٹریفک جام سے اب ملے گی نجات! — October 07, 2026
روپ وے سے کرسیانگ سے دارجلنگ صرف 45 منٹ میں، پہاڑوں میں گھنٹوں ٹریفک جام سے اب ملے گی نجات!
پہاڑوں کی سیر کے دوران گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہنے کے دن اب ختم ہونے والے ہیں۔ سیاح ’روپ وے‘ کے ذریعے کرسیانگ سے دارجلنگ صرف 45 منٹ میں پہنچ سکیں گے۔ اس کے لیے تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے کے منصوبے کی ’فیزیبلٹی اسٹڈی‘ مکمل ہو چکی ہے۔ انتظامی ذرائع سے یہ اطلاع ملی ہے۔
کرسیانگ سے دارجلنگ، خاص طور پر گھوم کے بعد سڑک پر شدید ٹریفک جام کا مسئلہ تقریباً روزانہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ اسی ٹریفک جام سے بچنے کے لیے روپ وے بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ رات کے وقت اسی روپ وے کے ذریعے سامان کی نقل و حمل پر بھی غور کیا گیا ہے۔ اگرچہ انتظامیہ کے افسران نے اس سلسلے میں کھل کر کچھ نہیں کہا ہے، کیونکہ یہ منصوبہ ابھی تجویز کی شکل میں ہے۔ اسے کسی بڑے صنعتی گروپ کے ذریعے نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انتظامی ذرائع کے مطابق، گھوم سے دارجلنگ شہر پہنچنے کے دوران سڑک پر شدید ٹریفک جام کے مسئلے سے بچنے کے لیے اس روپ وے منصوبے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ دارجلنگ ضلع انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ گزشتہ مئی میں سلی گوڑی سے سڑک کے ذریعے دارجلنگ پہنچنے میں تقریباً آٹھ گھنٹے لگے تھے۔ سیاح سلی گوڑی سے کرسیانگ تک تقریباً دو گھنٹے میں پہنچ گئے تھے، لیکن اس کے بعد شدید ٹریفک جام کی وجہ سے باقی راستہ طے کرنے میں تقریباً چھ گھنٹے لگ گئے۔ روپ وے سروس شروع ہونے کے بعد کرسیانگ سے دارجلنگ شہر پہنچنے میں صرف 45 منٹ لگیں گے۔
انتظامیہ کے افسران نے سروے کے بعد معلوم کیا ہے کہ اس ٹریفک جام کی بنیادی وجہ کرسیانگ اور دارجلنگ کے درمیان صرف ایک سڑک کا ہونا ہے، جسے ’ہل کارٹ روڈ‘ یعنی قومی شاہراہ نمبر 110 کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس سلی گوڑی اور کرسیانگ کے درمیان رابطے کے لیے تین سڑکیں ہیں—ہل کارٹ روڈ، روہنی روڈ اور پانکھاباری روڈ۔ اسی وجہ سے سلی گوڑی سے کرسیانگ تک گاڑیاں ٹریفک جام کی بڑی دشواری کے بغیر چلتی ہیں۔ مسئلہ کرسیانگ عبور کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ سیاحتی موسم میں کرسیانگ اور دارجلنگ شہر کے درمیان 32 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً روزانہ چار سے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہل کارٹ روڈ اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کا دباو¿ برداشت نہیں کر پا رہی ہے۔ لیکن دشوار گزار جغرافیائی حالات کے باعث کرسیانگ اور دارجلنگ کے درمیان نئی سڑک بنانا بھی ممکن نہیں ہو پا رہا ہے۔ اس مسئلے کو آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ سڑک کے ذریعے کرسیانگ تک پہنچنے کے بعد وہاں سے کیبل کار کے ذریعے دارجلنگ شہر پہنچا جا سکے گا۔ روپ وے بننے کے بعد اس سے ٹریفک جام کم ہوگا۔
اس کے علاوہ انتظامیہ نے منصوبہ بنایا ہے کہ رات کے وقت کرسیانگ سے دارجلنگ شہر تک روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا پہنچانے کے لیے کیبل کار کا استعمال کیا جائے۔ انتظامیہ کے ایک افسر نے بتایا کہ کرسیانگ اور دارجلنگ کے درمیان چار یا پانچ اسٹیشن ہوں گے۔ اناج اور سبزیوں جیسی روزمرہ ضروری اشیا دارجلنگ پہنچانے کے لیے روپ وے کا استعمال کیا جائے گا۔ کیونکہ ٹرکوں کے ذریعے دارجلنگ شہر میں ضروری سامان پہنچانے سے سڑک پر ٹریفک جام کی مشکل مزید بڑھ جاتی ہے۔روپ وے کے ذریعے کالمپونگ اور گنگٹوک کو بھی جوڑنے کا منصوبہ ہے۔

روپ وے سے کرسیانگ سے دارجلنگ صرف 45 منٹ میں، پہاڑوں میں گھنٹوں ٹریفک جام سے اب ملے گی نجات!...

Source: Admin
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn