National

رکن پارلیمنٹ پپویادو گرفتار، گھنٹوں ہنگامہ آرائی کے بعد اٹھا لے گئی پٹنہ پولیس

رکن پارلیمنٹ پپویادو گرفتار، گھنٹوں ہنگامہ آرائی کے بعد اٹھا لے گئی پٹنہ پولیس

پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپویادوکوپٹنہ پولیس نے جمعہ (06 فروری، کی دیر رات 31 سال پرانے معاملے میں گرفتارکرلیا۔ انہیں گرفتار کرنے کے لئے پولیس پہنچی تھی، لیکن وہ جانے کوتیارنہیں تھے۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں پولیس اہلکارپہنچ گئے۔ خود ایس پی بھانو پرتاپ پہنچے۔ اس کے بعد پپویادو کو پولیس اٹھاکر لے گئی۔ شروعاتی جانکاری کے مطابق، دو دن پہلے ہی پٹنہ کی ایم پی- ایم پی ایل اے کورٹ نے رکن پارلیمنٹ پپویادو سمیت تین افراد کے خلاف قرقی- ضبطی کا حکم دیا تھا۔ دھوکہ دہی کرکے مکان کرایے پرلینے کا الزام ہے۔ یہ پورا معاملہ 1995 کا ہے۔ پٹنہ کے گردنی باغ تھانے میں شکایت درج کرائی گئی تھی۔ رکن پارلیمنٹ پپویادو کو بھلے ہی گرفتارکرکے پولیس اپنے ساتھ لے گئی، لیکن اس کے لئے پٹنہ واقع ان کی رہائش گاہ پرگھنٹوں ہنگامہ ہوتا رہا۔ پولیس اورپپویادو میں بحث ہوتی رہی۔ پپویادو اپنے وکیل کو بلانے کی بات کرتے رہے۔ جب پولیس اہلکاروں کو لگا کہ پپویادو کو ایسے لے جانا آسان نہیں ہے تو بڑی تعداد میں پولیس فورس بلائی گئی۔ سینئرافسران بھی پہنچے۔ یہ سب کرتے کرتے رات کے تقریباً 12 بج گئے۔ اس کے بعد پولیس پپویادو کو اپنے ساتھ لے گئی۔ آپ کو بتا دیں کہ پولیس کے پہنچتے ہی پپویادوبرہم ہوگئے۔ انہوں نے اپنی میڈیا ٹیم کے ذریعے ایک ویڈیو جاری کیا اوربہارحکومت پرسخت حملے کئے۔ رکنِ پارلیمنٹ نے پولیس کی نیت پرسوال اٹھاتے ہوئے کہا: یہ مجھے مارنے کی سازش ہے۔ آخر پولیس بغیروارنٹ کے آدھی رات کو میرے گھرکیسے آسکتی ہے؟ جب عدالت کا حکم قرقی کا ہے تو پھروہ مجھے لے جانے کی بات کیوں کررہے ہیں؟ ”پپو یادونے واضح طورپرکہا کہ وہ رات کے اندھیرے میں پولیس کے ساتھ کہیں نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا ”میں نے اپنے وکیل کوبلا لیا ہے۔ پولیس مجھے صبح عدالت لے جائے، عدالت جہاں کہے گی، میں وہاں جانے کوتیارہوں۔ مجھے یہاں کے ایس پی پرذرا بھی اعتماد نہیں ہے۔“

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments