National

راہل گاندھی کی کسان لیڈروں سے اہم ملاقات، بھارت–امریکہ ٹریڈ ڈیل کو بتایا ’’کسان مخالف‘‘، بڑے احتجاج کی وارننگ

راہل گاندھی کی کسان لیڈروں سے اہم ملاقات، بھارت–امریکہ ٹریڈ ڈیل کو بتایا ’’کسان مخالف‘‘، بڑے احتجاج کی وارننگ

نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملک بھر سے آئے مختلف کسان تنظیموں کے لیڈروں سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اس ملاقات میں کسان نمائندوں نے اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی گفتگو کی اور اسے کسانوں کے مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے واضح الفاظ میں کہا کہ مجوزہ بھارت–امریکہ ٹریڈ ڈیل کسان مخالف ہے اور اس سے ہندوستانی زرعی معیشت کو گہرا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کسی بھی ایسے معاہدے سے پہلے کسانوں کے مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ زراعت ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ کسان لیڈروں نے خاص طور پر مکئی، سویابین، کپاس، پھل اور خشک میوہ جات پیدا کرنے والے کسانوں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس تجارتی معاہدے کے تحت زرعی اجناس کی بڑے پیمانے پر درآمد کی اجازت دی گئی تو مقامی کسانوں کو اپنی فصلوں کی مناسب قیمت نہیں مل سکے گی۔ سستی غیر ملکی پیداوار سے بھارتی منڈی متاثر ہوگی، جس کا براہ راست اثر چھوٹے اور متوسط کسانوں کی آمدنی پر پڑے گا۔ راہل گاندھی نے اجلاس کے دوران کہا کہ یہ معاہدہ زرعی درآمدات کے لیے راستے کھول سکتا ہے۔ ان کے مطابق ابتدا میں چند فصلیں اس دائرے میں آئیں گی، لیکن مستقبل میں اس کا دائرہ مزید فصلوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کی معاشی حالت کمزور ہوگی بلکہ ملک کی غذائی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ جو بھی پالیسی یا معاہدہ کسانوں کی روزی روٹی چھینے یا ملک کے اناج پیدا کرنے والوں کو نقصان پہنچائے، وہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ چاہے ان پر ایف آئی آر درج کی جائے، مقدمات قائم ہوں یا ان کے خلاف استحقاق کی تحریک لائی جائے، وہ کسانوں کے حق میں آواز اٹھاتے رہیں گے۔ ملاقات میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ اگر اس معاہدے کے خلاف بروقت اور متحد آواز بلند نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں زرعی شعبہ شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لیے کسان لیڈروں اور راہل گاندھی نے قومی سطح پر ایک بڑے احتجاجی تحریک کی ضرورت پر زور دیا۔ اس اجلاس میں سکھپال سنگھ خیرا، رنجیت سنگھ سندھو، ایڈووکیٹ اشوک بلہارا سمیت کئی کسان تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ تمام لیڈروں نے متحد ہو کر کسانوں اور کھیت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا اور اعلان کیا کہ وہ کسی بھی کسان مخالف پالیسی کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments