National

راجیہ سبھا میں جے پی نڈا اور کھڑگے کی شدید نوک جھونک نے ماحول گرم کر دیا ۔ دونوں ایوانوں میں تعطل برقرار

راجیہ سبھا میں جے پی نڈا اور کھڑگے کی شدید نوک جھونک نے ماحول گرم کر دیا ۔ دونوں ایوانوں میں تعطل برقرار

صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر پیش کیے گئے شکریہ کے تحریک پر بحث کے دوران جمعرات کو راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ ایوانِ بالا میں قائدِ ایوان جے پی نڈا اور قائدِ حزبِ اختلاف ملّیکارجن کھڑگے کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی، جس نے پارلیمانی ماحول کو خاصا گرم کر دیا۔ ایوان کی کارروائی میں خلل نہ ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے جے پی نڈا نے کھڑگے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کو ایک ’’معصوم‘‘ کا یرغمال نہ بنائیں۔ نڈا کا یہ بیان براہِ راست لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کی طرف اشارہ تھا۔ جے پی نڈا نے مزید کہا کہ ’معصومانہ اور انا کا امتزاج نہایت خطرناک ہوتا ہے۔ کانگریس کو اس معصوم شخص کے اثر سے باہر نکلنا ہوگا۔‘‘ درحقیقت، لوک سبھا میں راہل گاندھی بھارت۔چین تعلقات سے متعلق سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی کتاب کے چند اقتباسات پڑھنے پر بضد تھے۔ تاہم، لوک سبھا اسپیکر نے اس معاملے کو حساس قرار دیتے ہوئے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اسی مسئلے کے سبب گزشتہ چار دنوں سے لوک سبھا میں تعطل کی کیفیت بنی ہوئی ہے۔ بدھ کے روز بھی اپوزیشن کے شدید ہنگامے کی وجہ سے وزیر اعظم نریندر مودی صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر اپنا جواب پیش نہیں کر سکے۔ جمعرات کو جیسے ہی راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہوئی، اپوزیشن نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں راہل گاندھی کو بولنے نہ دینے کا الزام سراسر غلط ہے۔ رجیجو کے مطابق، راہل گاندھی کو مقررہ وقت سے 20 منٹ زائد بولنے کا موقع دیا گیا، مگر اس کے باوجود وہ بار بار اسپیکر کی رولنگ کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ رجیجو نے واضح کیا کہ اسپیکر کے متعدد بار منع کرنے کے باوجود راہل گاندھی وہی نکات دہراتے رہے جن کی اجازت نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی کے ضابطے الگ الگ ہیں اور دونوں ایوان ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔ اس کے بعد قائدِ حزبِ اختلاف ملّیکارجن کھڑگے نے بھی حکومت پر شدید حملہ کیا، تاہم ان کے ایک لفظ کو ایوان کی کارروائی سے حذف کر دیا گیا۔ کھڑگے نے کہا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا مل کر ہی پارلیمنٹ بنتا ہے۔ اگر ایک ایوان میں قائدِ حزبِ اختلاف کو بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو اس کا اثر دوسرے ایوان پر بھی پڑے گا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت غرور میں مبتلا ہے، جمہوریت کو کچلنا چاہتی ہے اور اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوان صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر بحث میں مصروف ہیں۔ سابق آرمی چیف کی کتاب، بھارت-چین تعلقات، اور قومی سلامتی جیسے حساس موضوعات پر اختلافِ رائے نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ کی کارروائی بار بار تعطل کا شکار رہی ہے، جس سے قانون سازی اور اہم مباحث متاثر ہو رہے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments