National

راجیہ سبھا میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف تحریک مسترد، 63 اراکین کی جانب سے پیش کیا گیا نوٹس ابتدائی مرحلے میں ہی خارج

راجیہ سبھا میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف تحریک مسترد، 63 اراکین کی جانب سے پیش کیا گیا نوٹس ابتدائی مرحلے میں ہی خارج

نئی دہلی: راجیہ سبھا کے چیئرمین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے پیش کی گئی تحریک کو مسترد کر دیا ہے، جس کے بعد اس معاملے پر پارلیمانی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ پارلیمانی بلیٹن کے مطابق 12 مارچ 2026 کو راجیہ سبھا کے 63 اراکین نے ایک باضابطہ نوٹس جمع کرایا تھا۔ یہ نوٹس آئین ہند کے آرٹیکل 324(5) اور 124(4) کے تحت پیش کیا گیا، جس میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نوٹس میں چیف الیکشن کمشنر و دیگر الیکشن کمشنرز ایکٹ 2023 اور ججز انکوائری ایکٹ 1968 کا بھی حوالہ دیا گیا، جو ایسے معاملات میں قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ چیئرمین راجیہ سبھا نے اس نوٹس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ تمام متعلقہ پہلوؤں کا ’’محتاط اور معروضی جائزہ‘‘ لیا گیا، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ چیئرمین نے ججز انکوائری ایکٹ 1968 کی دفعہ 3 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے تحریک کو ابتدائی مرحلے میں ہی مسترد کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد اس معاملے پر نہ کوئی بحث ہوگی اور نہ ہی کسی قسم کی باضابطہ تحقیقات شروع ہو سکیں گی۔ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ملک کے انتخابی نظام میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، اور اس عہدے کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے سخت آئینی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پارلیمانی قواعد کے مطابق ایسی کسی بھی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے چیئرمین کی منظوری لازمی ہوتی ہے، اور اسی مرحلے پر اس نوٹس کو روک دیا گیا ہے۔ پارلیمانی بلیٹن پر سکریٹری جنرل پی سی مودی کے دستخط موجود ہیں، جس کے ذریعے اراکین کو اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا۔ یہ پیش رفت ملک کے انتخابی نظام اور پارلیمانی عمل کے حوالے سے ایک اہم آئینی مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments