National

پیٹرول میں 20 فیصد ایتھانول بلینڈنگ کا ریئل ٹیسٹ باقی، حکومت نے خود سپریم کورٹ میں بتایا، اگلے سال تک پتہ چلے گا اثر

پیٹرول میں 20 فیصد ایتھانول بلینڈنگ کا ریئل ٹیسٹ باقی، حکومت نے خود سپریم کورٹ میں بتایا، اگلے سال تک پتہ چلے گا اثر

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ پیٹرول میں 20 فیصد ایتھانول بلینڈنگ کا فیصلہ آخری ہے تو ذرا رک جائیے… مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ پیٹرول میں 20 فیصد ایتھانول ملانے کے کیا اثرات ہو رہے ہیں، اس پر ابھی بھی حقیقی جانچ جاری ہے اور اگلے سال تک اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ تاہم، حکومت نے واضح کیا کہ ایتھانول بلینڈنگ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور اسے آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔ منگل کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمَنی نے کہا کہ حکومت 20 فیصد ایتھانول بلینڈنگ کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اگلے سال تک اس تجربے کے نتائج سامنے آنے کی امید ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ E20 بلینڈنگ مرکزی حکومت کا ایک پالیسی فیصلہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔ یعنی یہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ یہ معاملہ بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ کی اُس عرضی سے متعلق ہے، جس میں کرناٹک ہائی کورٹ کے 23 جون کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں ھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ، HPCL اور IOC کو ایک ڈسٹلری کی اضافی ایتھانول الاٹمنٹ کی درخواست پر غور کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ حکم 2025-26 سپلائی سال کی ٹینڈر کارروائی مکمل ہونے سے پہلے دیا گیا تھا۔ دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ BPCL، جو ایتھانول ملا ہوا پیٹرول پروگرام کی قیادت کر رہی ہے، اسے ٹینڈر عمل مکمل ہونے کے بعد تقریباً 1,759 کروڑ لیٹر ایتھانول سپلائی کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں اسی نوعیت کی عرضیاں زیرِ سماعت ہیں۔ اس لیے مرکز چاہتا ہے کہ ان تمام معاملات کی ایک ساتھ سماعت ہو، تاکہ پالیسی کے نفاذ میں تاخیر نہ ہو۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پوچھا کہ عرضی گزار پہلے کرناٹک ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ میں کیوں نہیں گئے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں اسی طرح کے کئی مقدمات زیرِ التوا ہیں، اس لیے ان تمام معاملات کو سپریم کورٹ منتقل کر کے ایک ساتھ سنا جانا چاہیے۔ دوسری جانب، سینئر وکیل سدھارتھ دوے نے اس مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسفر پٹیشن سے معاملے کے تصفیے میں غیر ضروری تاخیر ہوگی۔ یہ تنازع ونپ ڈسٹلریز اینڈ شوگر پرائیویٹ لمیٹڈ کی عرضی سے متعلق ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 9.90 کروڑ لیٹر ہے اور اس نے 9.26 کروڑ لیٹر ایتھانول کی سپلائی کے لیے بولی لگائی تھی۔ اس کے باوجود اسے صرف 3.92 کروڑ لیٹر کا الاٹمنٹ ملا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کی پیداواری صلاحیت کے مطابق الاٹمنٹ نہیں کیا گیا، اسی لیے اس نے اضافی الاٹمنٹ کا مطالبہ کیا تھا۔ مرکزی حکومت نے عدالت میں واضح کیا کہ ‘پریفرینشل الاٹمنٹ’ یا ‘بیسٹ اینڈیور’ کی بنیاد پر کسی بھی کمپنی کو اضافی ایتھانول الاٹمنٹ کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہوتا۔ حکومت کے مطابق اگر کسی ایک کمپنی کے لیے الاٹمنٹ بڑھایا جاتا ہے تو پوری ایتھانول الاٹمنٹ پالیسی میں تبدیلی کرنا پڑے گی، جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ سماعت کے بعد اٹارنی جنرل نے یہ بھی واضح کیا کہ عدالت میں ان کی دلیل صرف ایتھانول الاٹمنٹ کے تنازع سے متعلق تھی، جبکہ E20 پالیسی پہلے کی طرح جاری رہے گی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments