نئی دہلی: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باوجود ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری ریلیف ملنے کا امکان نہیں ہے۔ مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے واضح کیا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ اسی وقت ممکن ہوگا جب بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتیں آئندہ چند ہفتوں یا مہینوں تک مسلسل کم رہیں۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) اس وقت وہ خام تیل ریفائن کر رہی ہیں جو تقریباً دو ماہ قبل خریدا گیا تھا، جب مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں اچانک بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں۔ انہوں نے کہاکہ "آج ہم وہ خام تیل استعمال کر رہے ہیں جو دو ماہ پہلے خریدا گیا تھا۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں یہ کمی آئندہ دو سے تین ماہ تک برقرار رہتی ہے تو پھر صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا، لیکن اس وقت اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔" وزیر کے مطابق آئل کمپنیاں خام تیل پہلے سے خرید کر ذخیرہ کرتی ہیں، جسے بعد میں ریفائن کر کے پٹرول اور ڈیزل تیار کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس وقت فروخت ہونے والا ایندھن زیادہ تر اپریل اور مئی کے اوائل میں خریدے گئے خام تیل سے تیار کیا گیا ہے، جب مغربی ایشیا میں جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی قیمتیں مستقل طور پر کم رہتی ہیں تو ہی صارفین کو ریلیف دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ہردیپ سنگھ پوری نے بتایا کہ 30 جون تک سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کو لاگت سے کم قیمت پر فروخت کرنے کے باعث 74,781 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے باوجود کمپنیاں ابھی بھی وہ مہنگا خام تیل استعمال کر رہی ہیں جو مغربی ایشیا کے بحران کے دوران خریدا گیا تھا، اسی وجہ سے اس کا فائدہ فوری طور پر صارفین تک منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ مرکزی وزیر نے حکومت کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے دوران دنیا کے کئی ممالک میں پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم بھارت میں اضافہ انتہائی محدود رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں پٹرول کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد جبکہ بعض پڑوسی ممالک میں 35 فیصد تک اضافہ ہوا، لیکن بھارت میں صرف 5.58 فیصد اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سپلائی متاثر ہونے کے باوجود فروری کے آخر سے جون کے اختتام تک ملک بھر میں موجود 1.07 لاکھ سے زائد پٹرول پمپوں پر ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہی اور کہیں بھی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔ ہردیپ سنگھ پوری کے بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل نیچے آ رہی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کی پیش رفت کے بعد سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں نرمی دیکھی جا رہی ہے۔ جمعرات کو برینٹ کروڈ تقریباً 71 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) تقریباً 68 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ مسلسل تیسرے روز قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں بہتری اور امریکہ و ایران کے درمیان سفارتی کوششوں میں پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ عالمی سرمایہ کاری بینک مورگن اسٹینلے نے بھی خام تیل کی قیمتوں سے متعلق اپنی پیش گوئی کم کر دی ہے۔ بینک کے مطابق آبنائے ہرمز سے روزانہ 30 سے 40 آئل ٹینکرز کی معمول کے مطابق آمد و رفت بحال ہو چکی ہے، جس سے سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کافی حد تک ختم ہو گئے ہیں۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات