National

مودی حکومت 2011 کی مردم شماری پر آگے بڑھنا چاہتی ہے کیونکہ اس میں او بی سی طبقہ کی تعداد ہی نہیں ہے: پرینکا گاندھی

مودی حکومت 2011 کی مردم شماری پر آگے بڑھنا چاہتی ہے کیونکہ اس میں او بی سی طبقہ کی تعداد ہی نہیں ہے: پرینکا گاندھی

’’موتی لال نہرو نے 1928 میں ایک رپورٹ تیار کی تھی، جسے انھوں نے کانگریس پارٹی کی مجلس عاملہ کو سونپا تھا۔ موتی لال نہرو ایک کمیٹی کے سربراہ تھے اور تب انھوں نے 19 بنیادی حقوق کی فہرست بنائی تھی۔ 1931 میں سردار پٹیل کی صدارت میں کراچی کنونشن ہوا تھا، جس میں اس قرارداد کو پاس کیا گیا۔ یہیں سے ہندوستان کی سیاست میں خواتین کے یکساں حقوق کی بات شامل ہوئی۔ اسی وقت ’وَن ووٹ، وَن سٹیزن، وَن ویلیو‘ کا اصول ہماری سیاست میں نافذ ہوا۔ اس اصول کی وجہ سے ہمارے ملک میں خواتین کو ووٹ دینے کا حق آزادی کے پہلے دن سے ہی مل گیا، جبکہ امریکہ جیسے ملک میں خواتین کو اس حق کے لیے 150 سال انتظار کرنا پڑا تھا۔‘‘ یہ بیان کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے آج لوک سبھا میں آئین ترمیمی بل پر بحث کے دوران اپنی بات رکھتے ہوئے دیا۔ پرینکا گاندھی نے خواتین کے ریزرویشن معاملہ پر کانگریس کا موقف سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے ملک کے سیاسی نظام میں خواتین ریزرویشن نافذ کرنا ایک انوکھا قدم تھا۔ پنچایتوں اور نگر پالیکاؤں میں بھی خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا التزام کانگریس کی حکومت نے آنجہانی راجیو گاندھی کی قیادت میں ایوان کے ٹیبل پر پیش کیا تھا۔ لیکن اس وقت یہ التزام پاس نہیں ہو پایا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’آج وزیر اعظم (نریندر مودی) نے بتایا کہ اُس وقت اس التزام کی مخالفت ہوئی، لیکن یہ نہیں بتایا کہ کس نے مخالفت کی۔ سچائی یہ ہے کہ تب بی جے پی نے ہی اس بل کی مخالفت کی تھی۔ کچھ سال بعد آنجہانی پی وی نرسمہا راؤ کی قیادت میں کانگریس حکومت نے اس قانون کو ایوان میں پاس کر نافذ کیا۔ آج اس قانون کی وجہ سے ہی 40 لاکھ پنچایت نمائندوں میں سے 15 لاکھ خواتین ہماری جمہوریت میں شراکت دار ہیں۔‘‘ لوک سبھا میں مودی حکومت کے ذریعہ پیش بل پر اپنی بات رکھتے ہوئے پرینکا نے کہا کہ ’’آج کی بحث خواتین ریزرویشن پر نہیں ہے۔ مودی حکومت نے جو بل پیش کیا ہے، اسے پڑھ کر پوری بحث ہی بدل گئی ہے۔ حکومت کے ذریعہ پیش کردہ بل میں لکھا ہے کہ پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن 2029 تک نافذ ہونا چاہیے، خواتین ریزرویشن نافذ کرنے کے لیے لوک سبھا اراکین کی تعداد 50 فیصد تک بڑھانی ہوگی، ان سیٹوں کو بڑھانے کے لیے ایک حد بندی کمیشن بنایا جائے گا جو 2011 کی مردم شماری کو بنیاد بنا کر کام کرے گا۔‘‘ وہ یہ بھی جوڑتی ہیں کہ ’’کہا جا سکتا ہے کہ اس بل میں ’سیاست کی بو‘ موجود ہے۔ 2023 میں پاس بل میں صاف لکھا تھا کہ خواتین ریزرویشن نافذ کرنے سے پہلے مردم شماری اور حد بندی کروائی جائے گی۔‘‘ یہ بات رکھنے کے بعد وہ سوال پوچھتی ہیں کہ ’’کیا اب حکومت کا من بدل گیا؟ مودی حکومت پرانے اعداد و شمار کی بنیاد پر آگے کیوں بڑھنا چاہ رہی ہے؟‘‘ پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’نمائندگی کا سوال آبادی کے سوال سے جڑا ہوا ہے۔ جب تک ذات پر مبنی مردم شماری نہیں ہو جاتی، سبھی طبقات کو مناسب نمائندگی نہیں مل سکتی۔ مودی حکومت 2011 کی مردم شماری پر اس لیے آگے بڑھنا چاہتی ہے، کیونکہ اس میں او بی سی طبقہ کی تعداد ہی نہیں ہے۔‘‘ منموہن سنگھ حکومت کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’2010 میں آنجہانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور یو پی اے چیف سونیا گاندھی کی قیادت میں کانگریس پارٹی نے لوک سبھا اور اسمبلی میں خواتین کو ریزرویشن دینے کی پھر سے کوشش کی۔ راجیہ سبھا میں اسے پاس بھی کرایا گیا لیکن لوک سبھا میں عام اتفاق نہیں بن پایا۔ 2018 میں راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر کہا کہ خواتین ریزرویشن 2019 تک نافذ ہو جانا چاہیے۔‘‘ پی ایم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’آج وزیر اعظم کی باتوں سے ایسا لگا کہ بی جے پی ہی خواتین ریزرویشن کی سب سے بڑی پریزنٹر اور حامی رہی ہے۔ نریندر مودی جی کی پوری تقریر میں یہی بات تھی، جبکہ وہ کہہ رہے تھے کہ انھیں اس بات کا کریڈٹ نہیں چاہیے۔ آخر میں جب 2023 میں مودی حکومت نے خواتین ریزرویشن سے جڑا قانون اتفاق رائے سے پاس کیا، تب کانگریس نے اپنے نظریہ کے مطابق اس کی پوری حمایت کی۔ آج بھی اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ کانگریس خواتین ریزرویشن کے حق میں ڈٹ کر کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’آج وزیر اعظم نے بڑے ہلکے میں بول دیا کہ ہم ’اِس طبقہ-اُس طبقہ‘ کو دیکھ لیں گے۔ آخر یہ ’اِس طبقہ-اُس طبقہ‘ کیا ہے؟ کیا وہ او بی سی طبقہ کی بات کر رہے تھے کہ ہم اِس طبقہ کو بعد میں دیکھ لیں گے۔ ہمیں اسے ہلکے میں نہیں لینا چاہیے۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’او بی سی طبقہ کی بہت بڑی تعداد ہے، ان کی ایک بڑی جدوجہد ہے۔ ہم ان کے حق کی بات کر رہے ہیں، لیکن وزیر اعظم نے اسے تکنیکی معاملہ بتا دیا۔ کیا وزیر اعظم ذات پر مبنی مردم شماری سے گھبرا رہے ہیں، کہ جب اصل اعداد و شمار آئیں گے تو پتہ چلے گا کہ او بی سی طبقہ کتنا بڑا اور کتنا مضبوط ہے، تب کوئی انکار نہیں کر پائے گا۔‘‘ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’2011 کی مردم شماری کو حد بندی کی بنیاد بنا کر وزیر اعظم نریندر مودی او بی سی طبقہ کا حق چھیننا چاہ رہے ہیں، لیکن کانگریس پارٹی ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی۔‘‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments