بنگال میں گنگا کے کنارے سنگھ کے سنسکرت پاٹھ شالا کی تیاریاں
ہاتھوں میں موبائل فون نہیں ہوگا۔ گنگا کے ساحل کی تازہ ہوائیں صبح کو معطر کریں گی۔ آس پاس جانی پہچانی بنگلہ یا ہندی کے بجائے سنسکرت الفاظ کی آوازیں گونجیں گی—’کتھم بھوتی؟‘ (کیسے ہیں؟)، ’ک±تر گچھسی؟‘ (کہاں جا رہے ہیں؟)، ’بھوجنم کِرتوان؟‘ (کھانا کھا لیا؟)۔ اسی طرح گپ شپ، بات چیت، مباحثے اور فراغت کے لمحات بھی سنسکرت میں گزریں گے۔ موقع ہے ہالی شہر کا نگمانند مٹھ، جہاں 'سنسکرت بھارتی' کے زیرِ اہتمام سات روزہ ’پربودھن ورگ‘ کیمپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ رہائشی کیمپ یکم نومبر سے ۷ نومبر تک جاری رہے گا اور آخری دن صبح کی دعا کے بعد اس کا اختتام ہوگا۔
منتظمین کو امید ہے کہ اس بار کیمپ میں تقریباً دو سو افراد شرکت کریں گے۔ دن کا آغاز 'برہم مہورت' (صبحِ صادق) میں ہوگا اور رات ۱۰ بجے تک مختلف تعلیمی و تدریسی نشستیں جاری رہیں گی۔ اس کیمپ میں ذات پات، مذہب، نسل یا تعلیمی قابلیت کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ تاہم، سنسکرت بھارتی (جنوبی بنگال زون) کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ ارون کمار چکرورتی کا کہنا ہے کہ شرکاءکے پاس سنسکرت بولنے کی بنیادی صلاحیت ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، لوگ پہلے ’سمبھاشن کیمپ‘ کے ذریعے بول چال کی ابتدائی مہارت حاصل کرتے ہیں اور پھر ’پربودھن ورگ‘ میں شامل ہوتے ہیں۔ پربودھن مکمل کرنے کے بعد ۱۲ روزہ اعلیٰ تربیتی کیمپ میں جانے کا موقع ملتا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی میں سنسکرت سمیت ہندوستانی کلاسیکی زبانوں کی تعلیم کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ آر ایس ایس نے بھی ہندوستانی زبانوں کو ثقافت کے پاسبان کے طور پر محفوظ کرنے اور پھیلانے کی حمایت کی ہے۔ ارون بابو کا دعویٰ ہے کہ اس لسانی تحریک میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ مسلم برادری کے افراد بھی سنسکرت سیکھ اور سکھا رہے ہیں۔ ریاست کے ۱۶ ارکانِ اسمبلی (MLAs) نے سنسکرت زبان میں حلف لیا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سنسکرت زبان جاننے سے وید، اپنشد اور پران کے ساتھ ساتھ آیوروید کی بنیادی کتب کو براہِ راست پڑھ کر سمجھنا انتہائی آسان ہو جائے گا۔
بنگال میں گنگا کے کنارے سنگھ کے سنسکرت پاٹھ شالا کی تیاریاں...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments