National

پپو یادو کو 31 سال پرانے کیس میں ملی ضمانت، لیکن جیل سے نہیں آ سکیں گے باہر

پپو یادو کو 31 سال پرانے کیس میں ملی ضمانت، لیکن جیل سے نہیں آ سکیں گے باہر

پٹنہ: بہار کے ضلع پورنیہ سے رکنِ پارلیمنٹ پپو یادو کی مشکلات کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ 31 سال پرانے ایک معاملے میں گرفتاری کے بعد ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے انہیں ضمانت تو دے دی ہے، مگر اس کے باوجود وہ فی الحال جیل سے باہر نہیں آ سکیں گے۔ پولیس نے انہیں ایک دوسرے مقدمے میں ریمانڈ پر لے کر قانونی پیچیدگیاں مزید بڑھا دی ہیں، جس کے باعث ان کی رہائی ایک بار پھر ٹل گئی ہے۔ واضح رہے کہ سال 1995 کے ایک مقدمے میں پپو یادو کی حال ہی میں گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ یہ معاملہ مبینہ طور پر ایک مکان پر ناجائز قبضے سے متعلق ہے، جس میں ان پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔ پولیس نے 4 فروری، بدھ کے روز پپو یادو کو ان کے پٹنہ کے مندری واقع رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ گرفتاری کے وقت پولیس اور پپو یادو کے حامیوں کے درمیان سخت نوک جھونک بھی دیکھنے کو ملی، جس کے بعد ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا۔ اسی ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس نے ایک الگ معاملے میں بھی پپو یادو کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔ یہ نیا کیس پٹنہ کے بدھا کالونی تھانے میں درج کیا گیا، جس میں پولیس نے پپو یادو کو ریمانڈ پر لینے کی کارروائی کی۔ اسی وجہ سے اگرچہ عدالت نے پرانے مقدمے میں ضمانت منظور کر لی ہے، لیکن نئے کیس کے سبب ان کی رہائی ممکن نہیں ہو سکی۔ اس وقت پپو یادو پٹنہ کی بیور جیل میں بند ہیں۔ بدھا کالونی تھانے میں درج اس نئے مقدمے کی سماعت بھی ایم پی-ایم ایل اے کورٹ میں ہی ہوگی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مقدمے میں ضمانت ملنے کے باوجود دوسرے کیس میں ریمانڈ کی وجہ سے ملزم کو جیل میں ہی رہنا پڑتا ہے اور یہی صورت حال اس وقت پپو یادو کے ساتھ بھی پیش آ رہی ہے۔ منگل کے روز عدالت میں پیشی کے دوران پپو یادو نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ان کے خلاف سازش کر رہی ہے اور ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ پپو یادو نے عدالت میں یہ بھی کہا کہ انہیں پٹنہ پولیس پر بالکل بھی اعتماد نہیں ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ ان کے ساتھ کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ گرفتاری کے بعد پولیس پپو یادو کو پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (پی ایم سی ایچ) لے گئی، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا اور وہ پوری رات اسپتال میں زیر علاج رہے۔ اگلے دن پولیس نے انہیں عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں دو دن کی عدالتی حراست میں بیور جیل بھیج دیا تھا۔ اگر 31 سال پرانے معاملے کی بات کی جائے تو اس کی جڑیں سال 1995 میں ملتی ہیں۔ اس وقت پپو یادو پہلی بار رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہو کر پٹنہ آئے تھے۔ اس دور میں ان کی شناخت بہار کے ایک طاقتور سیاسی لیڈر اور بااثر شخصیت کے طور پر ہوتی تھی۔ اسی زمانے میں پپو یادو اور آنند موہن کے درمیان مبینہ گینگ وار کی خبریں قومی سطح پر موضوعِ بحث بنی ہوئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق، پٹنہ میں قیام کے دوران ان کے حامیوں کے دباؤ میں گردنی باغ تھانہ علاقے کے پونائچک میں واقع ایک فلیٹ انہیں کرائے پر دیا گیا، جو بہاری لال نامی شخص کی ملکیت تھا۔ ابتدا میں پپو یادو نے کہا تھا کہ وہ اس فلیٹ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہیں گے، مگر بعد میں انہوں نے اسی فلیٹ کو اپنا دفتر بھی بنا لیا۔ رفتہ رفتہ فلیٹ میں لوگوں کا تانتا بندھنے لگا، جس سے مکان مالک بہاری لال کو شدید پریشانی ہونے لگی۔ انہوں نے کئی بار فلیٹ خالی کرنے کی درخواست کی، لیکن پپو یادو اور ان کے حامیوں نے اس سے انکار کر دیا۔ الزام ہے کہ طاقت اور اثر و رسوخ کے باعث فلیٹ خالی نہیں کیا گیا۔ بالآخر مکان مالک نے گردنی باغ تھانے میں پپو یادو کے خلاف شکایت درج کرائی، جس کے بعد 18 اکتوبر 1995 کو یہ معاملہ عدالت پہنچا۔ طویل عرصے تک اس کیس میں پپو یادو کو باقاعدہ ضمانت حاصل رہی اور وہ عدالت میں پیش ہوتے رہے۔ تاہم کورونا وبا کے بعد انہوں نے عدالت میں حاضری دینا چھوڑ دیا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق، اس دوران تقریباً 40 تاریخیں پڑیں، مگر نہ پپو یادو اور نہ ہی ان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ اس کے نتیجے میں 8 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کر دیا۔ تقریباً چار ماہ تک وہ پولیس کی گرفت سے باہر رہے، جس کے بعد اب جا کر ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ اس پورے معاملے نے بہار کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments