چنڈی گڑھ: پنجاب اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی قیادت میں حکومت نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا، جس کے بعد ریاست میں سیاسی صورتحال کو ایک حد تک استحکام حاصل ہو گیا۔ اس پیش رفت کو خاص طور پر حالیہ سیاسی ہلچل اور ارکان پارلیمنٹ کی بغاوت کے پس منظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ یکم مئی کو یوم مزدور کے موقع پر بلائے گئے اس خصوصی اجلاس میں حکومت نے اپنی عددی برتری ثابت کرنے کے لیے اعتماد کی قرارداد پیش کی، جس پر بحث کے بعد اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اسمبلی کے کل 117 ارکان میں سے عام آدمی پارٹی کے ارکان کی تعداد 94 ہیں، جس میں سے 88 اجلاس میں موجود تھے، جبکہ 6 ارکان مختلف وجوہات کی بنا پر غیر حاضر رہے اور ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکے۔ غیر حاضر رہنے والے ارکان میں کنور وجے پرتاپ، لالجیت بھلر اور ہرمیت سنگھ پٹھانماجرا شامل ہیں، جن میں سے دو اس وقت جیل میں ہیں، جبکہ دیگر ارکان یا تو معطل ہیں یا ذاتی وجوہات کی بنا پر اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے۔ اس کے علاوہ چند ارکان بیماری یا دیگر مصروفیات کے باعث بھی ایوان میں موجود نہیں تھے۔ قابل ذکر بات یہ رہی کہ کانگریس، بی جے پی اور شرومنی اکالی دل کے ارکان اسمبلی اس اہم اجلاس کے دوران ایوان میں موجود نہیں تھے، جس کے باعث حکومت کے حق میں اعتماد کا ووٹ باآسانی متفقہ طور پر منظور ہو گیا۔ اپوزیشن کی غیر موجودگی نے اس سیاسی عمل کو یک طرفہ بنا دیا، تاہم حکومت نے اسے اپنی مضبوطی کی علامت قرار دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر برندر کمار گوئل نے اجلاس کے دوران کہا کہ سیشن خوش اسلوبی سے جاری رہا اور وزیر اعلیٰ نے تفصیل سے اپنی بات پیش کی۔ ان کے مطابق کچھ عناصر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن مجموعی طور پر کارروائی مثبت رہی۔ دوسری جانب قائد حزب اختلاف پرتاپ سنگھ باجوا نے اسپیکر کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایوان کی روایت، وقار اور اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے، جو اسپیکر کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ یہ اعتماد کا ووٹ اس وقت پیش کیا گیا جب عام آدمی پارٹی کے کچھ ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں حکومت کی پوزیشن کو لے کر سوالات اٹھنے لگے تھے۔ ایسے میں حکومت نے اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کر کے ان خدشات کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اعتماد کا ووٹ حاصل ہونے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ بھگونت مان حکومت کو فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں اور آئندہ چند ماہ تک سیاسی استحکام برقرار رہنے کا امکان ہے۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات