سرینگر: پہلگام کے مہلک دہشت گرد حملے کے ایک سال بعد بھی جموں و کشمیر کی سیاحتی صنعت جیسے وقت میں تھم سی گئی ہے۔ پہلگام کی بائسرن چراگاہ - جہاں یہ حملہ ہوا تھا- کے قریب پہاڑوں کے دامن میں تعمیر گیسٹ ہاؤس حملے سے پہلے نہ صرف سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا رہتا تھا بلکہ یہاں کے عملہ کو فرصت تک نہیں ملتی تھی۔ گزشتہ برس 22اپریل کو پہلگام دہشت گرد حملہ میں 25سیاح اور ایک مقامی گھوڑے بان مارے گئے تھے۔ گیسٹ ہاؤس کے مالک زبیر احمد حملہ سے قبل ان ایام کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں بات کرنے تک کا بھی وقت نہیں ملتا تھا، کیونکہ ٹور آپریٹرز کمروں کو حاصل کرنے کے لیے اس قدر جھگڑتے کہ کبھی صفائی ستھرائی سے پہلے ہی اپنی بکنگ کر لیتے تھے۔ ماضی کے اُن ایام کی یادوں کی چمک آنکھوں میں لیے زبیر حسرت بھرے لہجے میں کہتے ہیں: "اب سب بدل گیا ہے۔ دو بکنگ کے بیچ کئی کئی دن تک ہوٹل خالی رہتا ہے۔" گزشتہ ہفتے ایک بالی ووڈ فلم یونٹ کے قیام سے ہوٹل سیاحوں سے مکمل بھر گیا تھا، لیکن عام طور پر روزانہ صرف 2 سے 4 کمرے ہی بک ہوتے ہیں، اور بعض ایام ہوٹل پورا خالی بھی رہتا ہے۔ زبیر احمد کے مطابق: "ماضی کے مقابل میں کمروں کا کرایہ بھی آدھا کر دیا گیا ہے، اور بعض دن تو مجبوری میں انتہائی کم اور ناقابل یقین قیمت پر بھی کمرے کرایے پر دینے پڑتے ہیں، تاکہ ہم بھی مہمانوں کا دیدار کر سکیں۔" سرکاری اعداد و شمار بھی اس بحران کی تصدیق کرتے ہیں۔ حملے سے پہلے پہلگام میں روزانہ 3000 سے 4500 سیاح وارد ہوتے تھے، جن میں ملکی اور غیر ملکی دونوں شامل تھے۔ لیکن اب صورتحال مکمل بدل چکی ہے۔ ای ٹی وی بھارت کے پاس دستیاب آفیشل ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ مئی 2025 سے اپریل 2026 تک پہلگام میں 4,30,495 سیاح آئے، جو پچھلے برسوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سیلانیوں کی سالانہ تعداد 10 لاکھ سے زیادہ تھی۔ سیاحوں کے وارد ہونے کا موازنہ جب اپریل 2025 سے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ حملے کے دن یعنی 22 اپریل تک اس ماہ (یعنی صرف 22دنوں میں) ہی 1.37 لاکھ سیاح یہاں آ چکے تھے۔ وہیں امسال جنوری سے اپریل 2026 تک صرف 2,54,930 سیاح آئے، جبکہ پچھلے سال اسی مدت (یعنی پہلے چاہ ماہ) میں یہ تعداد 4.63 لاکھ تھی۔ فروری 2026 میں صرف 5602 سیاح آئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 94 فیصد کمی ہے۔ گزشتہ ایک برس سے جموں کشمیر خاص کر وادی کا سیاحتی شعبہ بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے زیادہ سیاح آئے تھے، جس سے لوگوں نے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس بنانے میں سرمایہ کاری کی۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات