میٹرو ریلوے میںٹکٹ بکنگ کاﺅنٹر کی کمی سے مسافروں کی پریشانی بڑھی
"میٹرو ریل میں مسافروں کی بھاری بھیڑ کے درمیان ٹکٹ بکنگ کاو¿نٹرز کی تعداد انگلیوں پر گنتی بھر ہے، جس کے نتیجے میں مسافروں کا غصہ آسمان کو چھو رہا ہے۔ ایسپلینیڈ، دم دم، کالی گھاٹ، رابندر سدن، شو بازار اور چاندنی چوک — کہیں بھی صورت حال مختلف نہیں۔ اس پر مسافروں کی پریشانی اس بات سے اور بڑھ رہی ہے کہ ہر اسٹیشن کے دونوں کناروں پر صرف ایک ایک ٹکٹ بکنگ کاو¿نٹر کھلا رکھا گیا ہے۔"
مختلف اسٹیشنوں کے نام لے کر واضح کیا گیا ہے کہ یہ مسئلہ صرف ایک یا دو اسٹیشنوں تک محدود نہیں بلکہ پورے نیٹ ورک میں یکساں ہے — چاہے شمالی کلکتہ ہو یا جنوبی، ہر جگہ یہی پریشانی ہے۔ ہر میٹرو اسٹیشن کے دونوں جانب (شاید ایک داخلی راستے پر اور دوسرے خارجی راستے پر) کل ملا کر صرف دو کاو¿نٹر کھلے ہیں، اور ہر سمت میں صرف ایک کاو¿نٹر، جس کی وجہ سے قطاریں لمبی ہوتی ہیں اور مسافروں کو انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کا غصہ مزید بڑھتا ہے۔
یہ رپورٹ کلکتہ میٹرو میں جاری ایک سنگین سہولت کے بحران کو اجاگر کرتی ہے۔ مسافروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، لیکن بنیادی ڈھانچہ اور عملہ اسی سطح پر ہے، جس کی وجہ سے عوام شدید پریشان ہیں۔ خاص طور پر ہر اسٹیشن کے دونوں اطراف صرف ایک ایک کاو¿نٹر کھلا رکھنا انتظامی نااہلی کی ایک واضح مثال ہے، جو مسافروں کے غصے کو مزید ہوا دیتی ہے۔
میٹرو ریلوے میںٹکٹ بکنگ کاﺅنٹر کی کمی سے مسافروں کی پریشانی بڑھی...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments