ہندوستانی ہونے کے باوجودمالدا کے 24 خاندان کی دو دہائیوں سے خاردار تار کے پار رہائش
شہریت کا تعارف 'ہندوستانی'۔ مگر بین الاقوامی خاردار تار کی باڑ کے پار 'تابع' زندگی۔ جی چاہے تو ملک کے مرکزی حصے میں قدم نہیں رکھ سکتا کوئی۔ یہ ایک یا دو سال نہیں، دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے تابعیت کی ذلت اٹھا رہے ہیں مالدا کے بامونگولا بلاک کے چاند پور گرام پنچایت کے تال تلا گاو¿ں کے 24 خاندان۔ پہلے وقت اچھا گزرا۔ لیکن 2005 میں بھارت-بنگلہ دیش سرحد پر خاردار تار کی باڑ لگنے پر سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا۔ خاندان خاردار تار کی باڑ کے پار رہ گئے۔ اس کے بعد تقریباً 21 سال گزر چکے ہیں۔
گاو¿ں والوں کا الزام ہے کہ ہندوستانی ہونے کے باوجود تابعیت کی ذلت اٹھا رہے ہیں۔ عملاً جیل جیسی زندگی گزر رہی ہے۔ چاند پور گرام پنچایت کے تال تلا گاو¿ں کی ایک طرف بھارت، دوسری طرف بنگلہ دیش۔ پون بھابا ندی دونوں ممالک کی قدرتی حد بندی یعنی زیرو لائن کا کام کر رہی ہے۔ ندی کے پار بنگلہ دیش کے نوگاو¿ں ضلع کے ساپاہار تھانے کا اداتلا گاو¿ں ہے۔ اس طرف مالدا کا تال تلا گاو¿ں۔ سرحدی خاردار تار کی باڑ کے پار رہنے والے 24 خاندان مرضی سے خاردار تار کے اس پار ملک کے مرکزی حصے میں قدم نہیں رکھ سکتے۔ مقررہ وقت کے مطابق بی ایس ایف کو شناختی کارڈ دکھا کر انہیں آنا جانا ہوتا ہے۔ دن میں آمد و رفت کا موقع ملتا ہے مگر رات کو بالکل نہیں، کیونکہ اس وقت گیٹ بند رہتا ہے۔
ہندوستانی ہونے کے باوجودمالدا کے 24 خاندان کی دو دہائیوں سے خاردار تار کے پار رہائش...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments