کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے وارڈوں کی نئی حد بندی کا حتمی مسودہ جاری، 3ستمبر تک اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کا موقع
گورنر آر این روی کی منظوری کے بعد کلکتہ میونسپل کارپوریشن ایکٹ میں ترمیم کے عمل کو آگے بڑھانے کے ساتھ ہی ریاستی حکومت نے شہر کی وارڈ حد بندی میں ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ محکمہ شہری ترقی نے کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے نئے وارڈ بندی کے حتمی مسودے کی فہرست شائع کر دی ہے۔ اس نئی تجویز کردہ حدود پر عام شہریوں، متعلقہ افراد اور سیاسی جماعتوں کو ۳ ستمبر تک اپنے اعتراضات، خیالات اور مشورے جمع کرانے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔
2026کی اس ترمیم کے نتیجے میں کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے وارڈوں کی تعداد ۱144سے بڑھ کر209 ہو گئی ہے۔
محکمہ شہری ترقی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ مسودہ (جو ۲۲ اگست کو شائع ہوا) کلکتہ میونسپل کارپوریشن ایکٹ، ۱۹۸۰ کی دوسری جدول (دوسرا شیڈیول) میں ترمیم کی تجویز پر مبنی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ وارڈوں کی نئی حدود اور ترتیب کے بارے میں متعلقہ افراد ۲۲ اگست سے ۳ ستمبر تک دفتری اوقات میں کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں میونسپل کمشنر کو اپنے اعتراضات یا مشورے جمع کرا سکتے ہیں۔اس وارڈ پنر بندی کے سلسلے میں منگل کو شام ساڑھے پانچ بجے کلکتہ میونسپل کارپوریشن میں ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی گئی ہے، جس کی صدارت میونسپل کارپوریشن کی ایڈمنسٹریٹر (کمشنر) سمتا پانڈے کریں گی۔ اس اجلاس کا مقصد نئے مسودے پر سیاسی جماعتوں کی رائے سننا اور وارڈ کی حدود سے متعلق مختلف سوالات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی سرگرمی شروع ہو گئی ہے۔
شائع شدہ دستاویز میں کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے مختلف وارڈوں کی شمالی، جنوبی، مشرقی اور مغربی حدود کو مخصوص سڑکوں، نہروں، ریلوے لائنوں، دریاو¿ں اور دیگر جغرافیائی خطوط کی بنیاد پر تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئندہ میونسپل انتخابات سے قبل شہر کے انتخابی نقشے میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری عملاً آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے۔
وزیر اعلیٰ شوویندو ادھیکاری پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ آنے والے 7 دسمبر تک کلکتہ میونسپل کارپوریشن کی ذمہ داری ایک منتخب بورڈ کو سونپ دی جائے گی۔ اس ہدف کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامی اور قانونی عمل کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ وارڈ پنر بندی کے حتمی مسودے کو سیاسی حلقے انتخابی تیاریوں کا ایک اہم ترین مرحلہ سمجھ رہے ہیں۔
اس سے قبل جولائی میں ہی وارڈ پنر بندی کا مسودہ جاری کرنے کا پروگرام تھا، لیکن مقررہ وقت پر یہ ممکن نہ ہو سکا۔ قانون میں ترمیم اور متعلقہ انتظامی امور کی وجہ سے یہ کام ملتوی ہو گیا تھا۔ بالآخر اگست کے آخری ہفتے میں نیا مسودہ جاری ہونے سے میونسپل انتخابات کو لے کر قیاس آرائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔
شہریوں اور سیاسی جماعتوں کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد اگر ضرورت ہوئی تو مسودے میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔ محکمہ شہری ترقی کی ہدایت کے مطابق، اعتراضات اور مشورے وصول کرنے کی ذمہ داری کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کے دفتر کو سونپی گئی ہے، اور نوٹیفکیشن کو میونسپل کارپوریشن کی ویب سائٹ اور نوٹس بورڈ پر شائع کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ آل پارٹی میٹنگ، شہریوں کی رائے، اور موصولہ اعتراضات و مشوروں کا جائزہ لینے کے بعد ضروری ترمیم کر کے وارڈ پنر بندی کی حتمی شکل طے کی جائے گی، جس کے بعد انتخابات سے متعلق دیگر مراحل آگے بڑھیں گے۔
کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے منتخب بورڈ کی تشکیل کی راہ میں وارڈ پنر بندی کا یہ مسودہ ایک انتہائی اہم انتظامی اقدام ہے۔ دریں اثنا، کالی گھاٹ تری نامول، کانگریس، سی پی ایم اور بائیں بازو کے اتحادی آر ایس پی سمیت دیگر جماعتوں کی طرف سے خطوط کے ذریعے اپنی آراء کلکتہ میونسپل کارپوریشن کو پہلے ہی بھیج دی گئی ہیں۔
کلکتہ میونسپل کارپوریشن کے وارڈوں کی نئی حد بندی کا حتمی مسودہ جاری، 3ستمبر تک اعتراضات اور تجاویز جمع کرانے کا موقع...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments