National

وزیرِاعلیٰ آسام ہیمنت بسوا سرما کا متنازع بیان: "آئین اجازت دیتا ہے، مگر بھارت کا وزیرِاعظم ہندو ہی ہوگا"

وزیرِاعلیٰ آسام ہیمنت بسوا سرما کا متنازع بیان: "آئین اجازت دیتا ہے، مگر بھارت کا وزیرِاعظم ہندو ہی ہوگا"

گوہاٹی: آسام کے وزیرِاعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے ہفتہ کے روز ایک بار پھر اپنے ’’ہندو راشٹر‘‘ کے نظریے کو دہرایا اور آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی کے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ ہندوستان کا آئین کسی شہری کو وزیرِاعظم بننے سے نہیں روکتا، لیکن ملک کی تہذیبی اور تمدنی شناخت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ بھارت کا وزیرِاعظم ہمیشہ ہندو ہی ہوگا۔ ہمنت بسوا سرما نے گوہاٹی میں ایک سرکاری پروگرام کے موقع پر کہا: “آئینی طور پر کوئی پابندی نہیں ہے، کوئی بھی وزیرِاعظم بن سکتا ہے۔ لیکن بھارت ایک ہندو قوم ہے، ایک ہندو تہذیب ہے، اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ہندوستان کا وزیرِاعظم ہمیشہ ایک ہندو ہی ہوگا۔” وزیرِاعلیٰ کا یہ بیان مہاراشٹر کے سولاپور میں اے آئی ایم آئی ایم کے ایک جلسے میں اسدالدین اویسی کے اُس بیان کے پس منظر میں آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایک دن حجاب پہننے والی لڑکی بھی ہندوستان کی وزیرِاعظم بن سکتی ہے**۔ اویسی کے اس بیان کو آئینی برابری اور اقلیتوں کی نمائندگی کے اظہار کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ اویسی کے بیان پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ہمنت بسوا سرما نے آئین اور تہذیبی شناخت کے درمیان فرق واضح کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ آئین ہر شہری کو، خواہ اس کا مذہب یا لباس کچھ بھی ہو، وزیرِاعظم بننے کی اجازت دیتا ہے، مگر ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی جڑیں ہندو تہذیب میں پیوست ہیں، جو ان کے مطابق ملک کی قیادت کی سمت متعین کرتی رہیں گی۔ وزیرِاعلیٰ کے اس بیان کے بعد ایک بار پھر آئینی سیکولرازم اور تہذیبی شناخت کے درمیان بحث تیز ہو گئی ہے۔ یہ بیان ہیمنت بسوا سرما کے اُس مستقل مؤقف کے مطابق ہے، جس میں وہ بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ اگرچہ آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق دیتا ہے، لیکن ہندوستان کی سیاست اور حکمرانی ہندو ثقافتی فریم ورک سے گہرا اثر قبول کرتی ہے۔ ان کے اس بیان پر مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل کا اظہار کیا جارہے ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات ملک کے سیکولر آئینی ڈھانچے سے متصادم ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments