تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ وجے نے بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعد وزیر اعظم سے ان کی یہ پہلی باضابطہ ملاقات بتائی جا رہی ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں کافی بحث چھیڑ دی ہے۔وزیر اعظم کے دفتر نے خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اس ملاقات کی جانکاری شیئر کی۔ پوسٹ میں بتایا گیا کہ تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ وجے نے وزیر اعظم مودی سے خیرسگالی ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان کئی اہم معاملات پر گفتگو ہوئی۔ اس سے قبل وجے اور وزیر اعظم مودی کی ملاقات تقریباً 12 سال پہلے ہوئی تھی۔ سال 2014 کے لوک سبھا انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران کوئمبتور میں دونوں لیڈروں کی مختصر ملاقات ہوئی تھی۔ اب اتنے طویل وقفے کے بعد دونوں ایک بار پھر دہلی میں ایک رسمی پلیٹ فارم پر ساتھ نظر آئے ہیں۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان میکیداتو پروجیکٹ سے متعلق تنازع مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں وزیراعلیٰ وجے نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر کرناٹک حکومت کے اس مجوزہ ڈیم پروجیکٹ کو منظوری نہ دینے کی اپیل کی تھی۔وجے کا کہنا ہے کہ اگر دریائے کاویری پر یہ ڈیم تعمیر ہوتا ہے تو تمل ناڈو کے حصے کا پانی متاثر ہوگا، جس کا براہ راست اثر ریاست کے کسانوں اور ان کی روزی روٹی پر پڑے گا۔ پانی کی تقسیم کا یہ مسئلہ طویل عرصے سے دونوں ریاستوں کے درمیان حساس موضوع بنا ہوا ہے۔ دراصل میکیداتو پروجیکٹ کرناٹک حکومت کی ایک کثیر المقاصد اسکیم ہے، جس کا مقصد پینے کے پانی کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ بتایا جاتا ہے۔ تاہم تمل ناڈو مسلسل اس منصوبے کی مخالفت کرتا آیا ہے۔ ریاست کا مؤقف ہے کہ اس سے دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ اس ملاقات نے ایک بار پھر وجے کے تیزی سے بدلتے سیاسی سفر کو سرخیوں میں لا دیا ہے۔ فلمی دنیا سے سیاست میں آنے والے وجے نے بہت کم وقت میں تمل ناڈو کی سیاست میں اپنی الگ شناخت قائم کر لی ہے۔ روایتی طور پر ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے غلبے والی سیاست میں انہوں نے اپنی پارٹی بنا کر ایک نیا متبادل پیش کیا۔ان کا سیاسی سفر آسان نہیں رہا۔ ایک ریلی میں بھگدڑ کے واقعے کو لے کر انہیں اپوزیشن کے سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا اور کئی لیڈروں کے خلاف کارروائی بھی ہوئی۔ اس کے باوجود وجے مسلسل عوامی مسائل کو اٹھاتے رہے۔آخرکار ان کی پارٹی نے تنہا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور نتائج نے انہیں مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔ بعد میں کانگریس کی حمایت نے ان کی حکومت کو مزید مضبوط کیا اور تمام سیاسی اتار چڑھاؤ کے درمیان وجے تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب رہے۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات