National

وزیر اعلی کے 'جوتا' والے تبصرے پر بھاجپا چراغ پا، عمر عبداللہ سے معافی کا مطالبہ، ایوان سے واک آؤٹ

وزیر اعلی کے 'جوتا' والے تبصرے پر بھاجپا چراغ پا، عمر عبداللہ سے معافی کا مطالبہ، ایوان سے واک آؤٹ

جموں : بدھ کے روز جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب اجلاس کے آغاز پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ’جوتے مارے" سے متعلق بیان پر سخت احتجاج کیا اور ان سے فوری معافی کا مطالبہ کیا۔ جیسے ہی اسپیکر نے دن کا اجلاس شروع کیا،بی جے پی ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے کھڑے ہوگئے اور کہا کہ وزیر اعلیٰ کو اپنے بیان پر ایوان میں معذرت کرنی چاہیے، اس دوران وزیر سکیینہ ایتو نے بی جے پی کے رویے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس ایوان میں اپنے 20 سالہ تجربے کے دوران میں نے کبھی اس قسم کی بدتمیزی نہیں دیکھی جو آج بی جے پی کے ارکان دکھا رہے ہیں۔وہ مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں،یہ میرے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ بتادیں کہ کل یعنی منگل بروز 10 فروری کو جموں کشمیر کے وزیر اعلٰی عمر عبداللہ اسمبلی میں بجٹ پر وقفہ سوالات کے جوابات دے رہے تھے کہ اس دوران بی جے پی نے ہنگامہ آرائی کی اس ہنگامہ آرائی کے دوران وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بی جے پی ارکان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ’لگتا ہے آپ کو وزیر داخلہ سے جوتا پڑا ہے، اسی لیے آپ اس طرح شور مچا رہے ہیں۔ جس نے بی جے پی ارکان کو مزید مشتعل کر دیا،جس کے بعد انہوں نے ایوان میں زبردست نعرے بازی کی اور وزیر اعلیٰ سے معافی کا مطالبہ دہرایا۔ تاہم ہنگامے کے باوجود عمر عبداللہ نے اپنی تقریر جاری رکھی اور مکمل کی۔ بعد ازاں، آج دوبارہ بی جے پی کے رکن اسمبلی شام لال شرما نے چیئرمین سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو ایوان میں آ کر اپنے اس بیان پر معذرت کرنی چاہیے۔چیئرمین کی جانب سے کوئی واضح یقین دہانی نہ ملنے پر بی جے پی کے تمام ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments