National

وقف ترمیمی بل پر جمعرات کو راجیہ سبھا میں حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جم کر نونک جھونک

وقف ترمیمی بل پر جمعرات کو راجیہ سبھا میں حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان جم کر نونک جھونک

نئی دہلی، 3 اپریل :وقف ترمیمی بل پر جمعرات کو راجیہ سبھا میں حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان خوب جم کر نونک جھونک ہوئی۔ کانگریس کے سید نصیر حسین نے مرکز میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر ملک میں پولرائزیشن کی سیاست کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ حکومت نے یہ بل صرف وقف املاک پر قبضہ کرنے کے لیے لایا ہے، جب کہ بی جے پی کے رادھا موہن داس اگروال نے کہا کہ اس کا مقصد وقف کو کسی کی جائیداد پر دعویٰ کرنے سے روکنا اور غریب مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے وقف املاک کوااستعمال کرنا ہے۔ مسٹر حسین نے وقف (ترمیمی) بل 2025 اور مسلم وقف (منسوخی) بل 2025 پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جب متعلقہ بل 1995 اور 2013 میں پیش کیے گئے تھے تو بی جے پی نے ان کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی نے اس کی حمایت کیوں کی تھی اور اسے اتفاق رائے سے کیوں منظور کیا تھا۔ سال 2009 میں بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں اس سے متعلق ایک کمیٹی کی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے اسے نافذ کرنے کی بات کہی تھی۔ سال 2013 میں کانگریس حکومت نے اس کمیٹی اور سچر کمیٹی کی رپورٹس کو ملا کر ترمیم کی تھی اور بی جے پی نے اس کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے 2024 تک مرکز میں برسراقتدار رہنے والی مودی حکومت کو یہ نہیں معلوم تھا کہ وقف ایکٹ ایک خوشامدی قانون ہے۔ سال 2024 میں جب بی جے پی لوک سبھا انتخابات میں 400 سیٹیں نہیں جیت سکی تھی اور اسے 240 سیٹیں ملیں تھیں، تب وہ یہ ترمیم لے کر آئی تھی تاکہ پولرائزیشن کی جا سکے اور مذہب کی سیاست کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنے والا ہے اور وقف ایکٹ کے حوالہ سے گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں رکھی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کتنے لوگ اس کے خلاف تھے اور کتنے حق میں تھے۔ اپوزیشن ارکان کی آراء کمیٹی کی سفارشات میں شامل نہیں ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں دفعات پر بحث نہیں ہوئی۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش نہیں کی لیکن معاون ارکان نے اس کی منظوری پر اصرار کیا۔ یہ صرف نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے اراکین پارلیمنٹ کی سفارش تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم آئین کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام مذاہب کے لیے یکساں قانون ہونا چاہیے۔ تمام مذاہب کے لیے قوانین بنائے جائیں لیکن پرسنل لاء بورڈ کو اس سے الگ رکھا جانا چاہئے۔ ایک کمیونٹی کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیرات کا تصور ہر مذہب میں ہوتا ہے۔ اس ملک میں ہر مذہب کے لیے الگ الگ قوانین ہیں۔ ریاستوں میں بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرو آیوکت سروے کرتا ہے۔ کلکٹر کی منظوری کے بعد ہی جائیداد کو وقف قرار دیا جاتا ہے۔ اس دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ صرف اس حقیقت تک محدود ہے کہ جو لوگ ٹربیونل کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں انہیں وقف ایکٹ کے تحت دیوانی مقدمات میں چیلنج کرنے کا حق نہیں دیا گیا ہے۔ ٹربیونل کا فیصلہ 99 فیصد درست سمجھا جاتا ہے۔ زمین کے مالک کو اپیل کا حق نہیں ہے۔ اس کے بعد مسٹر حسین نے کہا کہ وقف اراضی پر حکومت کی پوری نظر ہے۔ ملک میں مختلف مذہبی مقامات ہیں۔ ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صرف ووٹ کی سیاست ہو رہی ہے۔ ایک نیا پورٹل لانے کی بات ہو رہی ہے۔ حکومت مسلمانوں پر نظر رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سال 2013 میں اس وقت کی حکومت کی جانب سے راجدھانی دہلی کے لوٹینز علاقے میں 123 جائیدادوں کو وقف کے حوالے کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ زمین اس وقت دی گئی تھی جب انگریز لوٹین بنا رہے تھے۔ اس حوالے سے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم پر حکومت نے یہ اراضی وقف کو منتقل کی تھی۔

Source: uni news

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments