بھوپال: مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں دو غیر مسلم شخصیات کو شامل کیے جانے پر جمعیت علماء ہند مدھیہ پردیش کے صدر مولانا مفتی محمد احمد خان نے سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کی نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں مخالفت ہونی چاہیے۔ آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا مفتی محمد احمد خان نے کہا کہ یہ ملک کے لیے افسوسناک بات ہے کہ موجودہ حکومت ہر معاملے میں دوسرے مذہب کے لوگوں کو زبردستی شامل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ہر مذہب کے عبادات کے طریقے الگ ہیں اور آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے، جبکہ وقف کا نظام مسلمانوں کے مذہبی معاملات سے براہِ راست وابستہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وقف بورڈ میں غیر مسلم افراد کو شامل کرنا کس حد تک درست ہے؟ اگر حکومت ایسا کرنا چاہتی ہے تو پھر ہر مذہبی ادارے میں تمام مذاہب کے افراد کو برابر نمائندگی دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقف کی جائیدادیں مسلمانوں کی ملکیت ہیں، حکومت کی نہیں، اور ان کا مقصد مسلمانوں کی فلاح و بہبود ہے۔ مولانا مفتی محمد احمد خان نے کہا کہ مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی ادارے مسلمانوں کی عبادت اور عقیدے سے وابستہ ہیں، اس لیے ان کے انتظام میں غیر مسلم افراد کی شمولیت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آج اگر انہیں بورڈ میں جگہ دی گئی تو کل وہ مذہبی معاملات میں بھی مداخلت کرنا شروع کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسجد یا قبرستان سے متعلق کوئی مسئلہ پیش آئے تو غیر مسلم رکن ان معاملات کی نوعیت اور مذہبی تقاضوں کو کیسے سمجھ سکے گا۔ مولانا مفتی محمد احمد خان نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف صرف مدھیہ پردیش ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں آواز اٹھائی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق آج یہ معاملہ معمولی دکھائی دے رہا ہے، لیکن مستقبل میں یہ ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے تمام علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر متحد ہو کر مخالفت کریں، ورنہ آنے والے وقت میں یہ مسلمانوں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مسلم اراکین کی شمولیت سے شفافیت نہیں آئے گی بلکہ مسائل میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے رام مندر سے متعلق جاری تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب حکومت اپنے مذہبی اداروں کے معاملات بہتر طریقے سے نہیں سنبھال پا رہی تو مسلمانوں کی مذہبی املاک کی حفاظت کیسے کرے گی؟ مولانا نے کہا کہ پہلے بھی وقف بورڈ غریب مسلمانوں کی مدد کرتا تھا اور سرکاری افسران اس کی نگرانی کرتے تھے۔ ان کے مطابق افسران کی موجودگی پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن کسی عام غیر مسلم شخص کو وقف بورڈ میں شامل کرنے کی وہ مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ معاملہ اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے اور ابھی اس پر سماعت نہیں ہوئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماء ہند اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپنی قانونی لڑائی جاری رکھے گی۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات