Entertainment

نئی فلم ’گُھوس خور پنڈت‘ ریلیز سے قبل ہی تنازع کا شکار، نیٹ فلکس نے ٹیزر ہٹا دیا

نئی فلم ’گُھوس خور پنڈت‘ ریلیز سے قبل ہی تنازع کا شکار، نیٹ فلکس نے ٹیزر ہٹا دیا

آنے والی بالی وڈ فلم ’گھوس خور پنڈٹ‘ اپنے نام کی وجہ سے تنازع کا شکار ہو گئی ہے جس پر نیٹ فلکس نے اس کا ٹیزر بھی ہٹا دیا ہے۔ ٹریبیون انڈیا کے مطابق فلم کا نام سامنے آتے ہی اس پر تنقید شروع ہو گئی کہ اس میں مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ سلسلہ تیز ہونے پر فلم میکر نیرج پانڈے اور مرکزی اداکار منوج باجپائی کو وضاحت پیش کرنا پڑی کہ ان کا مقصد کسی کو تکلیف پہنچانا نہیں تھا اور تمام پبلسٹی مواد واپس لیا جا رہا ہے۔ ٹیزر کے بعد حکمران جماعت بی جے پی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ میں اس کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا گیا اور بتایا گیا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فلم کے پروموشنل مواد کو ہٹا دے۔ اس فلم میں منوج باجپائی کو ایک بدعنوان پولیس اہلکار کے طور پر دکھایا گیا ہے اور جیسے ہی اس کا ٹیزر سامنے آیا اس کے نام کے حوالے سے سوشل میڈیا پر برہمی کی لہر سامنے آئی اور زیادہ تر صارفین کا خیال تھا کہ اس میں ایک خاص کمیونٹی کو برے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان گاؤرو بھاٹیہ نے ایک پوسٹ میں اس امر کو خوش آئند قرار دیا جس میں نیٹ فلکس کو فلم کا ٹیزر ہٹانے کا کہا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ایک ایف آئی بھی درج کرا دی گئی ہے اور یہ ایک کھلا پیغام ہے کہ دھرم کے حوالے سے کوئی بھی نامناسب چیز برداشت نہیں کی جائے گی۔ ’ہم ان لوگوں کے خلاف ممکنہ سخت ایکشن کا ارادہ رکھتے ہیں جو کاروباری فائدے کے لیے کسی کاسٹ یا کمیونٹی کی توہین کریں۔‘ فلم میکر نیرج پانڈے کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ فلم کا تمام پروموشنل مواد او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک افسانوی ڈرامہ ہے جس میں پولیس اہلکار کے لیے پنڈت کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا کیونکہ یہ طور پر بولا جاتا ہے۔‘ شدید غم و غصہ سامنے آنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس ٹائٹل سے کچھ لوگوں کو تکلیف پہنچی ہے اور ہم ان کے جذبات کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان تحفظات کے تناظر میں ہم نے فیصلہ فی الحال فلم کا تمام مواد ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ فلم کو کسی ایک آدھ ٹکڑے کے بجائے مجموعی تناظر میں دیکھا جائے۔‘ اس فیصلے کے بعد اداکار منوج باجپائی نے ایکس پر لکھا کہ ’میں تمام لوگوں کے جذبات کی قدر کرتا ہوں اور ان کو سنجیدگی سے لیتا ہوں، جب آپ کسی ایسی چیز کا حصہ بنتے ہیں جس سے کسی کو تکلیف پہنچے تو آپ کو اسے روک دینا چاہیے اور لوگوں کو سننا چاہیے۔‘ انہوں نے فلم میکر کے اس فیصلے کی تائید بھی کی جو انہوں نے ’عوامی جذبات کی روشنی‘ میں کیا۔ بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے بھی اس معاملے پر پوسٹ کی۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ تشویشناک بات ہے کہ صرف یو پی میں ہی نہیں فلموں میں بھی پنڈت کو رشوت خور کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ہماری پارٹی اس کی شدید مذمت کرتی ہے اور مرکز کو ایسی فلموں پر پابندی لگانی چاہیے۔‘

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments