National

نیتاجی کی بیٹی انیتا پف نے جاپان سے بوس کی باقیات کی واپسی کی اپیل کی

نیتاجی کی بیٹی انیتا پف نے جاپان سے بوس کی باقیات کی واپسی کی اپیل کی

نئی دہلی، 22 جنوری :ہندستان 23 جنوری کو سبھاش چندر بوس کے 129ویں یوم پیدائش کے انعقاد کی تیاری کر رہا ہے ، اس دوران ان کی بیٹی انیتا بوس پف نے جاپان کے رینکو جی مندر میں رکھی بوس کی باقیات کی واپسی کی اپیل کی ہے جسے وہ اور ان کے خاندان کے کئی افراد بوس کی آخری باقیات مانتے ہیں۔ پف نے کہا کہ'' نیتاجی، جنہوں نے ہندستان کی جنگ آزادی کے دوران زیادہ تر وقت جلاوطنی میں گزارا ۔ آج 80 سال سے زیادہ عرصے اور آزادی کے 78 سال بعد بھی اپنی باقیات کو اپنے وطن میں نہ دیکھ کر شدید مایوس ہوتے ۔'' پف نے یو این آئی کو ایک واٹس ایپ پیغام میں کہا۔ ''میں، نیتاجی کی بیٹی، آج ہندستانیوں سے جو اب بھی ان کی عزت کرتے ہیں درخواست کرتی ہوں کہ ان کی باقیات کو ہندستان واپس منتقل کرنے کے سلسلے میں ہماری حمایت کریں تاکہ مناسب طور پر ان کی آخری رسومات ادا کی جاسکیں۔'' نیتاجی کے بھائی سرت بوس کی پوتی مادھوری بوس نے کہا کہ خاندان نے باقیات کی واپسی اور ڈی این اے ٹیسٹ کی درخواست کی ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ باقیات آزادی کے اس عظیم رہنما کی ہیں۔ کئی چشم دید گواہ بشمول کرنل حبیب الرحمٰن جنہوں نے آزاد ہند فوج (INA) میں خدمات انجام دیں، نے یہ گواہی دی تھی کہ بوس کا انتقال 18 اگست 1945 کو تائی پے میں ایک طیارہ حادثے میں ہوا۔ تاہم، یہ نظریات بھی سامنے آئے کہ وہ حادثے میں بچ گئے یا وہ اس طیارے میں سوار ہی نہیں ہوئے تھے ۔ کچھ لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ نیتا جی کسی طرح واپس ہندستان آئے اور پوشیدہ طور پر زندگی گزارتے رہے یا کسی روسی قید خانے میں ان کی موت ہوئی ۔ مادھوری بوس نے کہا کہ بوس کے خاندان کے تین افراد، جن میں نیتاجی کی بیٹی انیتا پف، ان کے بڑے بھائی کے بیٹے معروف فزیشین دوارکا ناتھ بوس اور نیتاجی کے بھتیجے اردھندو بوس شامل ہیں، نے اکتوبر 2016 اور دسمبر 2019 میں حکومت سے درخواست کی تھی کہ رینکو جی مندر میں رکھی باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے تاکہ اس تنازعہ کو ختم کیا جا سکے ۔ لیکن اب تک ایسا نہیں کیا گیا ہے ۔ نیتاجی کی زندگی اور جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے ، پف نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے آزادی کی تحریک کے لیے کئی دہائیاں وقف کیں اور پھر ایک ایسا قدم اٹھایا جب قید میں رہنا ان کی جدو جہد اور ان کے مقصد کو ناممکن بنا رہا تھا۔ نیتاجی کا یورپ کی طرف فرار، اس کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کی طرف ایک آبدوز کے ذریعے خطرناک سفر اور انڈین نیشنل آرمی ( آئی این اے ) کی قیادت کا نتیجہ ہندستانی حکومت، آزاد ہند کی عبوری حکومت کے قیام اور انڈین نیشنل آرمی کے قیام کی صورت میں سامنے آیا، جو برطانوی حکومت کے خلاف دلیری سے جنگ لڑ رہی تھی۔ پف نے کہا کہ جاپان کی شکست کے بعد، نیتاجی سنگاپور سے ٹوکیو کے لیے روانہ ہوئے تھے لیکن 18 اگست 1945 کو مبینہ طور پر تائی پے میں ایک حادثے کا شکار ہوگئے ، جہاں وہ ابتدائی طور پر زندہ بچ گئے ، مگر بعد میں شدید زخمی ہونے کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی۔ انہیں تائی پے میں نذر آتش کیا گیا اور بعد میں ان کی باقیات ٹوکیو لے جائی گئیں۔ نیتاجی کی باقیات پھر جاپان کے رینکو جی مندر کے چیف پجاری کے پاس محفوظ کر دی گئیں، جہاں وہ آج بھی محفوظ ہیں

Source: uni news

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments