ناسک : مہاراشٹر کے شہر ناسک سے نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک معاملے میں ایک اہم گرفتاری عمل میں آئی ہے، جبکہ دوسری جانب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے 3 مئی 2026 کو منعقد ہونے والا نیٹ یو جی امتحان باضابطہ طور پر منسوخ کرتے ہوئے دوبارہ امتحان لینے کا اعلان کردیا ہے۔ اس معاملے نے ملک بھر کے لاکھوں طلبہ اور والدین میں شدید بے چینی پیدا کردی ہے۔ پولیس کے مطابق ناسک کے رہائشی 30 سالہ شبھم کھیرنار کو حراست میں لیا گیا ہے، جو اس وقت بیچلر آف مینجمنٹ اسٹڈیز (بی ایم ایس) کے آخری سال کا طالب علم بتایا جا رہا ہے۔ ناسک پولیس کے ڈپٹی کمشنر کرن کمار چوہان نے بتایا کہ ملزم کو مزید تفتیش کے لیے راجستھان پولیس کے حوالے کیا جائے گا کیونکہ اس کیس کی تحقیقات کئی ریاستوں تک پھیل چکی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق شبھم کھیرنار اصل میں ناسک ضلع کے ناندگاؤں کا رہائشی ہے۔ تفتیشی اداروں نے تکنیکی شواہد، تصاویر اور دیگر معلومات کی مدد سے اس کی شناخت کی اور صرف ایک گھنٹے کے اندر اسے گرفتار کرلیا۔ بتایا گیا ہے کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اس نے اپنا حلیہ تبدیل کرلیا تھا، سر منڈوا لیا تھا اور گنجے انداز میں گھوم رہا تھا۔ پولیس نے اسے اُس وقت گرفتار کیا جب وہ ایک مندر میں پوجا کے لیے جا رہا تھا۔ ناسک پولیس کے مطابق راجستھان اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) کی درخواست پر کارروائی کی گئی۔ راجستھان پولیس نے اس پورے معاملے میں ملک کے مختلف حصوں سے اب تک 16 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ نیٹ یو جی کے سوالیہ پرچے امتحان سے ایک دن قبل بھاری رقم کے عوض فروخت کیے گئے تھے۔ تفتیشی ایجنسیاں اس بات کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں کہ پیپر لیک کا نیٹ ورک کن افراد اور تنظیموں تک پھیلا ہوا ہے۔ ملزم کے والد ڈاکٹر مدھوکر کھیرنار نے اپنے بیٹے کی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا گزشتہ چھ ماہ سے ناسک میں بی اے ایم ایس کی پریکٹس کر رہا ہے اور اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیقات کرے۔ ادھر نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے ایک باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے نیٹ یو جی 2026 امتحان منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ این ٹی اے کے مطابق مرکزی ایجنسیوں سے موصول ہونے والی معلومات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات سے یہ واضح ہوا کہ موجودہ امتحانی عمل کی شفافیت متاثر ہوئی ہے، اس لیے امتحان کو برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا۔ این ٹی اے نے کہا کہ طلبہ کی رجسٹریشن، امتحانی مراکز اور دیگر تفصیلات برقرار رہیں گی اور دوبارہ امتحان کے لیے نئی رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوگی۔ طلبہ سے اضافی فیس بھی نہیں لی جائے گی جبکہ پہلے سے جمع شدہ فیس واپس کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے اس معاملے کی جامع تحقیقات کے لیے کیس سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ این ٹی اے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سی بی آئی کو مکمل تعاون فراہم کرے گی اور تمام ریکارڈ اور دستاویزات مہیا کرے گی۔ این ٹی اے نے طلبہ اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر بھروسہ کریں۔ دوبارہ امتحان کی تاریخ اور نئے ایڈمٹ کارڈز کے اجراء سے متعلق معلومات جلد جاری کی جائیں گی۔
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات