National

نظام آباد کا نام بدل کر اندور کیا جائے گا‘‘بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظام آباد سے  ایم پی ڈی اروند کا اشتعال انگیزی

نظام آباد کا نام بدل کر اندور کیا جائے گا‘‘بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظام آباد سے ایم پی ڈی اروند کا اشتعال انگیزی

بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظام آباد سے رکنِ پارلیمان ڈی اروند کے حالیہ بیان نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران نظام آباد کے نام سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈی اروند نے دکن کے ساتویں نظام کے نام کو لے کر نہ صرف گستاخانہ بلکہ انتہائی غیر شائستہ الفاظ استعمال کیے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اپنی تقریر میں ڈی اروند نے کہا کہ “ایک گدھا نظام آیا تھا جس نے اندور کا نام بدل کر نظام آباد کیا”، اور مزید یہ دعویٰ بھی کیا کہ نظام نام اتنا “منحوس” ہے کہ اس نام سے جڑی کوئی چیز کامیاب نہیں ہوئی، مثال کے طور پر نظام شوگر مل کا بند ہو جانا۔ ان بیانات کو عوام اور دانشور طبقے نے تاریخ، تہذیب اور شخصیات کی توہین قرار دیا ہے۔ صرف یہی نہیں، ڈی اروند نے تلنگانہ کے سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) کو بھی غیر شائستہ انداز میں یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فارم ہاؤس پر جا کر ان سے نظام آباد کا نام اندور کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن “اس بوڑھے نے بھی بات نہیں مانی”۔ اس جملے کو بھی سیاسی مخالفین نے بے ادبی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈی اروند کا اس طرح کے الفاظ استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ان کے بیانات کو توجہ نہیں ملتی تو وہ جان بوجھ کر اشتعال انگیز اور بدتمیز زبان استعمال کرتے ہیں تاکہ میڈیا اور عوام کی توجہ حاصل کی جا سکے۔ عوامی سطح پر اس معاملے پر مختلف ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو ایسے بیانات سے سیاسی فائدہ پہنچتا ہے، اسی لیے ڈی اروند پارٹی میں اب تک برقرار ہیں، ورنہ ان کی سیاسی حیثیت اتنی نہیں کہ وہ ایک کارپوریٹر بھی بن سکیں۔ وہیں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ “نیا بھارت” ہے، جہاں مشہور ہونے کے لیے کام کی نہیں بلکہ کسی بڑی شخصیت کا نام لے کر بدتمیزی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈی اروند کے بیان کے بعد نظام آباد میں نام کی تبدیلی کے مسئلے سے زیادہ ان کی زبان اور لہجے پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور باشعور شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عوامی نمائندوں کو ذمہ داری اور شائستگی کے دائرے میں رہ کر بات کرنی چاہیے۔ یہ معاملہ نہ صرف نظام آباد کی سیاست بلکہ ریاستی سیاست میں بھی ایک نیا تنازع بن کر ابھرا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید ردعمل اور سیاسی بیانات متوقع ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments