ممبئی ، 6 فروری : سینئر اداکار نصیرالدین شاہ اور ایک صحافی کے درمیان ایئرپورٹ پر پیش آنے والے واقعے نے اس وقت سیاسی رنگ اختیار کر لیا، جب اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما امتیاز جلیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سخت تبصرہ کیا۔ وائرل ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے جلیل نے لکھا کہ اداکار نے صحافی کو ''زور دار تھپڑ'' مارنے کا ایک سنہری موقع گنوا دیا اور دعویٰ کیا کہ ایسے صحافی صرف اسی زبان کو سمجھتے ہیں۔امتیاز جلیل کے اس تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ کئی صارفین نے صحافیوں کے خلاف تشدد کی حمایت کو غلط قرار دیتے ہوئے اس بیان پر تنقید کی، جبکہ کچھ لوگوں نے میڈیا کی جانب سے بار بار مبینہ ہراسانی کا حوالہ دے کر اس سوچ کی تائید بھی کی۔ اس طرح یہ معاملہ، جو ابتدا میں ایک اداکار اور میڈیا کے درمیان تنازع تھا، اب ایک وسیع عوامی اور سیاسی بحث میں تبدیل ہو گیا ہے ۔ یہ پورا سلسلہ اس ہفتے کے آغاز میں اس وقت شروع ہوا تھا، جب نصیرالدین شاہ نے ایک مضمون تحریر کیا۔ اس مضمون میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ممبئی یونیورسٹی کے ''جشنِ اردو'' پروگرام سے آخری وقت میں نکال دیا گیا۔ شاہ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے پیچھے ممکنہ طور پر سیاسی دبا¶ کارفرما ہو سکتا ہے ، اگرچہ منتظمین کی جانب سے اس پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ یہ مضمون سوشل اور مین اسٹریم میڈیا میں خاصا زیرِ بحث رہا۔ مضمون کے منظرِ عام پر آنے کے بعد نصیرالدین شاہ کو ان کی اہلیہ رتنا پاٹھک شاہ اور ایک ساتھی کے ہمراہ حیدرآباد ایئرپورٹ پر دیکھا گیا، جہاں ایک رپورٹر نے ان سے مضمون سے متعلق سوالات کیے ۔ شاہ نے ابتدا میں بات کرنے سے انکار کیا اور معاملے کو آگے نہ بڑھانے کی درخواست کی، مگر وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا کہ صحافی مسلسل سوالات کرتا رہا اور اداکار کا پیچھا کرتا رہا۔ صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب برہم نظر آنے والے شاہ نے آواز بلند کی اور مائیکروفون کو پرے دھکیل دیا۔ ویڈیو میں انہیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتے اور بار بار انکار کے باوجود سوالات کیے جانا ہراسانی کے مترادف ہے ۔ مائیکروفون دھکیلنے پر وضاحت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسے ان کے چہرے کے بہت قریب لایا جا رہا تھا۔ بحث کے دوران ان کے ساتھ موجود خاتون نے بھی صحافی سے سوال کیا کہ واضح انکار کے باوجود بات کیوں جاری رکھی جا رہی ہے ، جبکہ رتنا پاٹھک شاہ نے مداخلت کرتے ہوئے اداکار کو معاملہ ختم کرنے کا مشورہ دیا۔ بعد ازاں یہ جوڑا گاڑی میں بیٹھ کر ایئرپورٹ سے روانہ ہو گیا۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد عوامی رائے منقسم نظر آئی۔امتیاز جلیل کے بیان کے بعد یہ واقعہ اب میڈیا اخلاقیات، مشہور شخصیات کی نجی زندگی اور عوامی رویّے سے متعلق ایک بڑی بحث بن چکا ہے ۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ عوامی شخصیات کو سخت سوالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ، جبکہ دوسرے طبقے کا م¶قف ہے کہ بات نہ کرنے کے فیصلے کا احترام ضروری ہے ۔ سوشل میڈیا اور سیاسی بیانات کے اس دور میں یہ واقعہ میڈیا کے تعاقب، عوامی جواب دہی اور ذاتی حدود کے درمیان بڑھتے تنا¶ کو نمایاں کرتا ہے ۔
Source: UNI NEWS
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو