مودی حکومت کے ذریعہ ایران کے چابہار بندرگاہ پر اپنا کنٹرول چھوڑنے کی خبروں پر کانگریس نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس نے اس معاملہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی نے ایک بار پھر ٹرمپ کے آگے سرنڈر کر دیا ہے۔‘‘ یہ حملہ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیا ہے۔ چابہار بندرگاہ معاملہ میں کانگریس نے کئی پوسٹس کیے ہیں، جن میں سے ایک میں لکھا ہے کہ ’’خبروں کے مطابق ٹرمپ کے دباؤ میں نریندر مودی نے ایران کے چابہار بندرگاہ سے اپنا کنٹرول چھوڑ دیا ہے، خاموشی سے ویب سائٹ بھی بند کروا دی۔‘‘ اس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’اس بے حد اہم پروجیکٹ میں مودی حکومت نے ملک کی عوام کے 120 ملین ڈالر لگائے تھے، اور اب یہ سب برباد ہو گئے ہیں۔‘‘ ’ایکس‘ پر کیے گئے اس پوسٹ میں کانگریس نے کہا ہے کہ چابہار کوئی عام بندرگاہ نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کو افغانستان اور سنٹرل ایشیا سے ایک اہم اور سیدھا سمندری راستہ دیتا ہے۔ اس سے ہم پاکستان کو بائپاس کر سکتے ہیں اور چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ نریندر مودی ٹرمپ کے دباؤ کے آگے جھک گئے اور ملک کا نقصان کر دیا۔ کانگریس نے وزیر اعظم مودی اور مرکزی حکومت کے سامنے 2 تلخ سوالات بھی رکھے ہیں۔ کانگریس نے پوچھا ہے کہ ہندستان کی خارجہ پالیسی امریکہ کے وہائٹ ہاؤس سے کیوں طے کی جا رہی ہے؟ دوسرا سوال یہ پوچھا گیا ہے کہ نریندر مودی امریکہ کو ہندوستان پر دباؤ بنانے کی اجازت کیوں دے رہے ہیں؟
Source: social media
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو