رگھو ناتھ پور میں 19رہائشی مکانات پدما ندی میں بہہ گئے
مرشدآباد میں ایک بار پھر دریائے پدما کا خوفناک کٹاو¿، رگھوناتھ گنج 2 بلاک کے تاراناگر گرام پنچایت کے رادھا کرشن پور میں اتوار کی شام سے کٹاو¿ نے خطرناک شکل اختیار کر لی۔ صرف ایک رات میں پدما ندی نے قدیم منسا مندر سمیت 19 رہائشی مکانات کو نگل لیا۔ چائے، مٹھائی اور سائیکل کی دکانوں کے علاوہ کئی بیگھہ زرعی زمین بھی دریا برد ہو گئی۔ مزید 50 سے 70 مکانات کٹاو¿ کی زد میں ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق رادھا کرشن پور میں 8 ستمبر سے کٹاو¿ شروع ہوا تھا، لیکن گزشتہ چار دنوں سے اس میں بتدریج اضافہ ہو رہا تھا۔ اتوار کی شام اچانک دریا کا بہاو¿ تیز ہونے سے تیزی سے کنارہ ٹوٹنے لگا۔ اپنی آنکھوں کے سامنے ایک کے بعد ایک گھر دریا میں ڈوبتا دیکھ کر خوف زدہ باشندوں نے گاو¿ں چھوڑنا شروع کر دیا۔ کئی خاندان اب سڑک کے کنارے، درختوں کے نیچے اور مقامی پرائمری اسکول میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔متاثرہ سپریا داس نے بتایا، ”دو کمرے، باورچی خانہ، باتھ روم، برآمدہ اور چار دیواری، سب کچھ دریا میں چلا گیا۔ کچھ بھی نکال نہیں سکی۔“
ایک اور رہائشی بابول داس نے الزام لگایا، ”چار دن سے کٹاو¿ جاری ہے، انتظامیہ صرف دیکھ رہی ہے۔ ریت کی بوریاں ڈال کر ذمہ داری پوری کی جا رہی ہے۔ ابھی تک ایک روپیہ بھی امداد نہیں ملی۔“دوسری جانب گاو¿ں کے رہائشی پریم کمار سنگھ نے کہا، ”صرف بوریاں ڈالنے سے کٹاو¿ نہیں رکے گا۔ اگر پتھروں سے مستقل بند نہیں بنایا گیا تو پورا رادھا کرشن پور نقشے سے مٹ جائے گا۔“
بازآبادکاری کے معاملے پر بھی شدید ناراضگی ہے۔ کاشی ناتھ داس نے الزام لگایا کہ ایک سال قبل گھر کھونے کے بعد انتظامیہ نے پٹہ زمین دینے کا یقین دلایا تھا، لیکن ابھی تک زمین نہیں ملی۔ بازآبادکاری کی فائل اب بھی زیر التوا ہے۔ادھر پیر کو جنگی پور پولیس ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سریندر سنگھ، سب ڈویڑنل مجسٹریٹ گدّام سدھیر کمار ریڈی، بی ڈی او اور آبپاشی محکمے کے افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ اتوار کی رات سے ہی پولیس مائیک کے ذریعے کٹاو¿ سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے۔ کسی حادثے کو روکنے کے لیے علاقے میں پولیس پکٹس بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
رگھو ناتھ پور میں 19رہائشی مکانات پدما ندی میں بہہ گئے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments