National

ہندو لڑکی کی مسلم لڑکے سے شادی ملک کا تانا بانا کیسے خراب کررہی؟ سپریم کورٹ نے کیوں پوچھا یہ سوال

ہندو لڑکی کی مسلم لڑکے سے شادی ملک کا تانا بانا کیسے خراب کررہی؟ سپریم کورٹ نے کیوں پوچھا یہ سوال

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے بدھ کے روز ایک اہم تبصرہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کسی ہندو لڑکی کا مسلم لڑکے سے شادی کرنا ملک کے سماجی تانے بانے کو کیسے نقصان پہنچا سکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے فلم یادو جی کی لو اسٹوری پر پابندی لگانے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے یہ بڑا تبصرہ کیا۔ یہ عرضی وشو یادو پریشد کے سربراہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فلم کا عنوان یادو برادری کے خلاف براہِ راست اور قابلِ اعتراض اسٹیریو ٹائپ پیش کرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی الزام لگایا گیا کہ فلم میں یادو برادری کی ایک ہندو لڑکی اور ایک مسلم نوجوان کے درمیان محبت کا رشتہ دکھایا گیا ہے، جس سے سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس بی وی ناگارتنا اور جسٹس اجل بھوئیاں کی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران بنچ نے درخواست گزار کے دلائل پر سخت اعتراض کرتے ہوئے واضح الفاظ میں سوال کیا کہ ’’کیا ہندو لڑکی کا مسلم لڑکے سے شادی کرنا قومی تانے بانے کو تباہ کر دیتا ہے؟‘‘ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس نے ریکارڈ پر موجود تمام دستاویزات اور مواد کا جائزہ لیا ہے۔ بنچ کے مطابق عرضی کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ فلم کا نام سماج میں یادو برادری کو غلط روشنی میں پیش کرتا ہے، اس لیے فلم کا عنوان تبدیل کیا جانا چاہئے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ ’’ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کسی فلم کا محض عنوان کسی برادری کو کیسے بدنام کر سکتا ہے۔ فلم کے نام میں ایسا کوئی لفظ یا صفت شامل نہیں ہے جو یادو برادری کو منفی انداز میں پیش کرتا ہو۔ اس سلسلے میں ظاہر کئے گئے خدشات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔‘‘ سپریم کورٹ نے اس معاملے کا موازنہ حال ہی میں آئی فلم گھوس خور پنڈت سے متعلق حکم سے بھی کیا اور دونوں کو مختلف قرار دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ’گھوس خور‘ لفظ اپنے آپ میں بدعنوانی جیسا منفی مفہوم رکھتا ہے، جس سے کسی برادری کو غلط انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ’یادو جی کی لو اسٹوری‘ کے معاملے میں ایسی کوئی منفی بات شامل نہیں ہے۔ بنچ نے کہا کہ اس فلم کے عنوان یا کہانی پر ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 19(2) کے تحت لگائی جانے والی کسی بھی ’’معقول پابندی‘‘ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ فلم کا نام یادو برادری کو نہ تو بدنام کرتا ہے اور نہ ہی کسی منفی انداز میں پیش کرتا ہے، اس لیے عرضی مسترد کی جاتی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے یہ بھی دلیل دی کہ فلم خود کو ایک حقیقی واقعے پر مبنی بتاتی ہے۔ اس پر بنچ نے فلم Bandit Queen کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں بھی گجر برادری کو خراب انداز میں پیش کیے جانے کا الزام لگایا گیا تھا، لیکن عدالت نے اس عرضی کو قبول نہیں کیا تھا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments