خون عطیہ کیمپ میں شرکت کرنے پر میڈیکل کے طلباءکو نیشنل میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے خبردارکیا
خون کے عطیے کے کیمپ میں شرکت کرنے پر میڈیکل کے طلباءکو نیشنل میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے خبردار کر دیا ہے۔ الزام ہے کہ 'میڈیکل آفیسر' کے طور پر طلباءمیں سے کئی نے حال ہی میں ایک خون کے عطیے کے کیمپ میں شرکت کی تھی۔ مستقبل میں ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو، اس لیے طلباءکو بتا دیا گیا ہے۔ انہیں مطلع کیا گیا ہے کہ آئندہ ایسی شکایت آنے پر طلبائ کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔
نیشنل میڈیکل کالج کے چند طلباء نے حال ہی میں ایک نجی بلڈ بینک کی پیشکش پر خون کے عطیے کے کیمپ میں شرکت کی تھی۔ خون کے عطیے کے کیمپ میں 'میڈیکل آفیسر' کی ضرورت ہوتی ہے۔ میڈیکل کے طلباءنے ہی یہ کردار ادا کیا تھا۔ بدھ کو اس کالج کی پرنسپل سشمتا بھٹاچاریہ نے ایک بیان جاری کر کے طلباءکو خبردار کیا۔ نیشنل میڈیکل کالج کے تمام طلباءو طالبات کے نام اس میں کہا گیا کہ مستقبل میں کوئی ایسا کام کرے گا، یعنی طالب علم ہو کر بھی کسی خون کے عطیے کے کیمپ میں میڈیکل آفیسر کا کردار ادا کرے گا، تو اس کے خلاف نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزام میں سخت کارروائی کی جائے گی۔
میڈیکل آفیسر بننے کے لیے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنی ہوتی ہے اور مطلوبہ ڈگری حاصل کرنی ہوتی ہے۔ صرف ایک ڈاکٹر ہی خون کے عطیے کے کیمپ میں میڈیکل آفیسر کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیکل کے طلبائ نے یہ کردار کیسے لیا، اس پر سوال تھے۔ گزشتہ منگل کو سی آئی ٹی روڈ پر واقع ایک بلڈ بینک کی کال پر نیشنل میڈیکل کالج کے کچھ طلباء نے یہ کام کیا تھا۔ کالج انتظامیہ نے اس شکایت کی بنیاد پر کارروائی کی۔ جو لوگ خون کے عطیے کے کیمپ میں گئے تھے، ان کی شناخت کی گئی۔ بعد میں ہیلتھ بھون (صحت بھون) نے انہیں بلوایا تھا۔ وہاں بات چیت کے بعد ہی تمام طلباء کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔
حال ہی میں خون سے متعلق بدعنوانی کے الزام میں کئی نجی بلڈ بینکوں پر ریاست کی محکمہ صحت اور خون کی منتقلی بورڈ کی طرف سے پابندی عائد کی گئی ہے۔ خون کے عطیے کے کیمپ کے انعقاد اور خون جمع کرنے کے طریقہ کار میں بے ضابطگیوں کے الزامات ہیں۔
خون عطیہ کیمپ میں شرکت کرنے پر میڈیکل کے طلباءکو نیشنل میڈیکل کالج کی انتظامیہ نے خبردارکیا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments