دوسری ریاستوں میں گئے نوجوانوں کو ریاست واپس آنے کی اپیل وزیر اعلیٰ شوبھیندو کا
جو لوگ کام کی تلاش میں بنگال چھوڑ کر دوسری ریاستوں یا بیرون ملک چلے گئے ہیں، انہیں واپس آنے کی اپیل کی ہے وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال کی ڈبل انجن حکومت صنعت اور روزگار کا نیا ماحول پیدا کر رہی ہے۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں ریاست کے نوجوانوں کو کام یا روزگار کے لیے بنگال سے باہر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جمعرات کو نیو ٹاو¿ن میں لارسن اینڈ ٹبرو مائنڈ ٹری کے نئے انفارمیشن ٹیکنالوجی آفس کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعلیٰ نے یہ پیغام دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، "مغربی بنگال کو نئے سرے سے تشکیل دینا ہمارا ہدف ہے۔ نوکری نہ ملنے پر ریاست کے نوجوانوں کو اب باہر نہیں جانا پڑے گا۔" ان کے مطابق، بنگال کے نوجوان کاروبار چاہتے ہیں، کام چاہتے ہیں اور اپنا مستقبل بنانے کا موقع چاہتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے ریاستی حکومت نے کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مغربی بنگال میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں۔ لیکن مناسب روزگار کی کمی کی وجہ سے بہت سے باصلاحیت نوجوانوں کو دوسری ریاستوں اور یہاں تک کہ بیرون ملک بھی جانا پڑا۔ ریاست میں نئی صنعتوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی توسیع کے ذریعے اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے نیو ٹاو¿ن کے اس نئے آفس کو مغربی بنگال پر صنعتی حلقوں کے اعتماد کی علامت بھی قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق، تقریباً ۷ لاکھ ۴۸ ہزار مربع فٹ رقبے پر دو ٹاورز پر پھیلے اس انفارمیشن ٹیکنالوجی آفس میں تقریباً ۵,۸۰۰ افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ 'آنند نکیتن' کے نام سے موسوم اس منصوبے سے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو کام کرنے کا موقع ملے گا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بڑے صنعتی اور آئی ٹی منصوبے ریاست کی روزگار کی تصویر ہی بدل سکتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ نئے کام کے مواقع پیدا ہونے سے روزگار کی تلاش میں بنگال چھوڑ کر جانے والے بہت سے نوجوان آنے والے دنوں میں اپنی ریاست واپس آ کر کام کرنے کا موقع پائیں گے۔
دوسری ریاستوں میں گئے نوجوانوں کو ریاست واپس آنے کی اپیل وزیر اعلیٰ شوبھیندو کا...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments